| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
سے ٹیک لگا کر اس طرح مناجات کرنے لگا : ''اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! تو خوب جانتا ہے کہ آج میرا روزہ تھااورابھی تک میں نے کوئی چیز نہیں کھائی۔ میرے خالق جَلَّ جَلَالُہٗ ! اب ثَرِید کھانے کو بہت جی چاہ رہا ہے، مولیٰ! کرم فرمادے ۔''
ابھی اس نے دعا مکمل بھی نہ کی تھی کہ مِنارہ کی جانب سے ایک عجیب وغریب شخص آیا جس میں انسانوں کی کوئی نشانی نہ تھی وہ کوئی اور ہی مخلوق تھی اس نے ایک بڑا سا پیالہ دعا مانگنے والے کے سامنے رکھ دیا اور خود ایک جانب کھڑا ہوگیا۔وہ پیالے سے کھانے لگا اورمجھے بھی بلایا۔میں سمجھا کہ شاید! یہ جنت کا بابرکت کھانا ہے ،اسی لئے تھوڑاسا کھایا تووہ ایسا عمدہ ولذید تھاکہ اہلِ دنیاکے کھانے اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ میں نے صرف چند لقمے کھائے پھر شرم کی وجہ سے واپس اپنی جگہ آگیا۔ جب وہ شخص کھانا کھا چکا تو پاس کھڑے ہوئے عجیب وغریب شخص نے پیالہ اٹھایا اورجِدھر سے آیا تھا اسی سمت چلاگیا۔ جب دُعا مانگنے والا جانے لگاتومیں بھی اس کے پیچھے چل دیا تاکہ اس کے بارے میں معلومات کر سکوں۔ لیکن اچانک نہ جانے وہ کہاں غائب ہو گیا۔ میرا گمان ہے کہ شاید! وہ حضر تِ سیِّدُناخضر علیہ السلام تھے ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)حکایت نمبر440: دانش مند اعرابی
حضرتِ سیِّدُنا علی بن محمدمَدَائِنِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا بیان ہے:ایک دن حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر نے خلیفہ سلمان بن عبدالمَلِک سے کہا:'' باہر ایک اعرابی آیا ہوا ہے جو بڑا فصیح کلام کرتا ہے۔'' خلیفہ سلمان بن عبدالمَلِک نے کہا: ''اسے میرے پاس لے آؤ۔'' اعرابی آیا توخلیفہ نے کہا: ''تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟'' کہا:'' اے امیر المؤمنین !میرا تعلق قبیلہ ''عبدُ القَیْس بن اَقْصٰی'' سے ہے، میری باتیں بظاہر تلخ ہوں گی مگر ضبط سے کام لیا جائے توآپ کے لئے بہت مفید ہوں گی اگر اجازت ہو توکچھ عرض کروں ''؟ خلیفہ نے کہا:'' اے اَعرابی! جو کہنا چاہتے ہوکہو۔'' اعرابی کچھ اس طرح گویا ہوا : '' اے امیرالمؤمنین! بے شک آپ کے پاس ایسے لوگ بیٹھتے ہیں جنہوں نے اپنے دین کو دنیا کے بدلے بیچ ڈالا اور اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی مول لے کر آپ کو راضی رکھنا چاہتے ہیں۔ و ہ آپ سے تو ڈرتے ہیں لیکن آپ کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کاخوف ان کے پیشِ نظر نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنی آخرت برباد کرکے دنیا کی عیش وعشرت حاصل کر لی ہے ،وہ دنیا سے اپنے آپ کوبچاتے ہیں لیکن آخرت سے جنگ کرتے ہیں۔ آپ اُس معاملے میں ان پر ہرگز اعتماد نہ کریں جس پراللہ ربُّ العِزَّت نے آپ کو ذمہ