Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
326 - 412
دار بنایا ہے ۔اگر اِن کو اِقتدار مل گیا تویہ امانتوں کوہَڑ َپ کریں گے اور امت پر ظلم وجبر کریں گے۔ پھروہ جو بھی جُرم وظلم کریں گے اس کے بارے میں آ پ سے سوال ہوگا۔ اور اگرآپ ظلم وستم کریں گے تو اُن سے آپ کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔ اپنی آخرت کو برباد کرکے ان کی دنیا کی اصلاح نہ کیجئے، بے شک! لوگوں میں سب سے زیادہ خسارہ پانے والاوہ ہے جو کسی کی دنیا کے لئے اپنی آخرت برباد کرے۔''

    خلیفہ نے کہا:''اے اَعرابی! بے شک تیری زبان کے وار تیری تلوار کے واروں سے کہیں زیادہ تیز ہیں ۔''اَعرابی نے کہا:'' جی ہاں! امیرالمؤمنین! معاملہ ایسا ہی ہے لیکن اس میں آپ کا فائدہ ہے نقصان نہیں ۔''خلیفہ نے کہا :''کیا تیری کوئی حاجت ہے؟'' کہا: ''مجھے عام لوگوں سے کوئی حاجت نہیں ،میں تو خدائے بزرگ وبرتر جَلَّ جَلَالُہٗ ہی کا محتاج ہوں۔'' یہ کہہ کر وہ اَعرابی واپس چلا گیا۔ خلیفہ نے کہا :''تمام خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں۔ یہ بندہ بہترین نَسَبْ والا، مضبوط دل، زبان کا صحیح استعمال کرنے والا، نیت کا سچا اور متقی وپرہیز گار ہے ۔ایسے ہی سمجھ دار لوگ شرف وبزرگی پاتے ہیں ۔

(۲)۔۔۔۔۔۔ اسی طرح حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللہ بن زُبیررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے : ایک اَعرابی کو خلیفہ سلمان بن عبدالمَلِک نے بلایا اور کہا:''کچھ کلام کرو۔'' اعرابی نے کہا:'' میں کلام کروں گامگر اسے برداشت کیجئے گا،اس میں آپ ہی کا فائدہ ہے ۔ ''خلیفہ نے کہا :''جب ہم ایسے شخص کی باتیں برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں جس سے خیرخواہی کی امید نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے فریب سے اَمن ہوتا ہے توتمہاری باتیں بھی برداشت کر لیں گے تم بے فکرہو کر جو کہنا چاہوکہو۔'' کہا:'' اے امیرالمؤمنین! جب آپ کے غضب سے امان مل گئی تو اب میں اس بارے میں اپنی زبان کھولوں گا جس کے متعلق لوگوں کی زبانیں آپ کواللہ عَزَّوَجَلَّ کے حقوق اور آپ کے اپنے حقوق کے متعلق نصیحت کرنے سے گونگی ہیں ۔''اس کے بعد اعرابی نے وہی کلام کیا جو سابقہ روایت میں گزرا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ  عليہ وسلم)
حکایت نمبر441:             وَلی کی وَلی کو نصیحت
    حضرتِ سیِّدُناعبد اللہ بن ابوعبیدہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد ِ محترم کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں: ''جب حضرتِ سیِّدُنا مَکْحُوْل شامی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بہت زیادہ بیمار ہوئے تو لوگوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاانتقال ہوگیاہے۔ لیکن
Flag Counter