طرح کی سزائیں دیں بالآخر ان تکالیف سے تنگ آکر میں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا ہے۔''میں نے کہا: ''امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر نے مجھے فدیہ دے کرمسلمان قیدیوں کو چھڑانے کے لئے بھیجا ہے، اگر تو نے مجبور ہو کر صرف زبان سے کلمۂ کفربَکّا ہے اور تیرا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے تو مجھے سب قیدیوں سے زیادہ تیری رہائی پسند ہے۔ جلدی بتا!کیا تو نے دل سے توعیسائی مذہب قبول نہیں کیا ؟''ابووَابِصِی نے کہا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! کفر میرے دل میں داخل ہوچکا ہے، میں دل سے عیسائیت قبول کر چکا ہوں ۔''(معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ)
میں نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ہدایت دے، اسلام قبول کرلے۔'' کہا:'' میرے دو بیٹے ہیں اور اب میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے اس سے بھی دوبیٹے ہوئے ہیں۔ اگر میں اسلام لے بھی آیا تب بھی مجھے نصرانی ہی کہا جائے گا۔ اسی طرح میرے بچوں اور ان کی ماں کو بھی نصرا نی کہا جائے گا، مجھے یہ بات گوارا نہیں لہٰذا میں نصرانی رہنا ہی پسند کرتا ہوں۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !اب میں ہرگز مسلمان نہیں ہوں گا ۔''(معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ )میں نے کہا :''کیا تجھے حالتِ ایمان میں کچھ قرآن یاد تھا؟'' اس نے کہا:'' بخدا!میں حالتِ اسلام میں بہترین قاری تھا۔'' میں نے کہا:'' کیااب بھی تجھے کچھ یا دہے ؟ '' اس نے کہا:'' نہیں میں سارا قرآن بھول چکاہوں، صرف یہ ایک آیت یاد ہے :