Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
324 - 412
طرح کی سزائیں دیں بالآخر ان تکالیف سے تنگ آکر میں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا ہے۔''میں نے کہا: ''امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر نے مجھے فدیہ دے کرمسلمان قیدیوں کو چھڑانے کے لئے بھیجا ہے، اگر تو نے مجبور ہو کر صرف زبان سے کلمۂ کفربَکّا ہے اور تیرا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے تو مجھے سب قیدیوں سے زیادہ تیری رہائی پسند ہے۔ جلدی بتا!کیا تو نے دل سے توعیسائی مذہب قبول نہیں کیا ؟''ابووَابِصِی نے کہا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! کفر میرے دل میں داخل ہوچکا ہے، میں دل سے عیسائیت قبول کر چکا ہوں ۔''(معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ)

     میں نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ہدایت دے، اسلام قبول کرلے۔'' کہا:'' میرے دو بیٹے ہیں اور اب میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے اس سے بھی دوبیٹے ہوئے ہیں۔ اگر میں اسلام لے بھی آیا تب بھی مجھے نصرانی ہی کہا جائے گا۔ اسی طرح میرے بچوں اور ان کی ماں کو بھی نصرا نی کہا جائے گا، مجھے یہ بات گوارا نہیں لہٰذا میں نصرانی رہنا ہی پسند کرتا ہوں۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !اب میں ہرگز مسلمان نہیں ہوں گا ۔''(معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ )میں نے کہا :''کیا تجھے حالتِ ایمان میں کچھ قرآن یاد تھا؟'' اس نے کہا:'' بخدا!میں حالتِ اسلام میں بہترین قاری تھا۔'' میں نے کہا:'' کیااب بھی تجھے کچھ یا دہے ؟ '' اس نے کہا:'' نہیں میں سارا قرآن بھول چکاہوں، صرف یہ ایک آیت یاد ہے :
رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوْ کَانُوۡا مُسْلِمِیۡنَ  ﴿2﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بہت آرزوئیں کریں گے کافر کاش!مسلمان ہوتے۔(پ14،الحجر:2)

    ہم خدائے  بزرگ وبرتر سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارا ایمان سلامت رکھے۔ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں دولتِ ایمان سے محروم نہ کرے بلکہ ہماری خطاؤں کو اپنے پیارے حَبِیْب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے اپنی رحمت سے معاف فرمائے۔

؎ مسلماں ہيں ہم سب تیری عطا سے 		ہو ایمان پر خاتمہ یا الٰہی

( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ  عليہ وسلم)
حکایت نمبر439:                 ثَرِید کا پیالہ
    حضرت سیِّدُنا مُصْعَب بن ثابِت بن عبداللہ بن زُبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم بہت زیادہ متقی وعبادت گزار تھے۔ روزانہ ایک ہزار نوافل پڑھاکرتے اور ہمیشہ روزہ رکھتے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''ایک رات میں مسجدنبوی علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام میں تھا۔ جب سب نمازی چلے گئے تواچانک حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے حجرۂ مبارکہ کی طرف سے ایک شخص ظاہر ہوا اور مسجد کی دیوار
Flag Counter