Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
323 - 412
بے حرمتی کریگا اور سر کاٹ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بدن کولٹکا دے گا۔ اسی خطرے کے پیشِ نظرلوگوں نے اپنے اپنے ہتھیار نکال لئے اور پختہ ارادہ کر لیا کہ اگر حاکم نے ہلکی سی گستاخی بھی کی تو ہم اس سے جنگ کریں گے۔ حاکم مجمع کے قریب آیا، لوگوں کو دور کرتے ہوئے جنازے کے قریب پہنچا اور حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دے کر بلند آواز سے رونے لگا۔ لوگ تو پہلے ہی غمزدہ تھے اب سارا مجمع رونے لگا۔بچے، بوڑھے، جوان، مردو عورت الغرض ہر شخص رورہا تھا ہر آنکھ پُرنم تھی۔ حاکم نے فقہاء کرا م علیہم الرحمۃ کو بلواکر کہا:'' مجھے اس ولئ کامل کی تدفین کے بارے میں مشورہ دو۔'' 

    حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد بن سَلَمَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں موجود تھے، انہوں نے فرمایا :'' اے امیر!میری رائے یہ ہے کہ انہیں ان کی چادر اور قمیص کا کفن دیا جائے اور ہم خود اپنے ہاتھوں سے انہیں غسل دیں، بے شک انہیں یہی بات پسندتھی ۔حاکم نے کہا: ''ٹھیک ہے، تم لوگ انہیں غسل دے کر انہی کپڑوں کا کفن پہناؤ،لیکن اس کے بعد میں اپنی طرف سے کفن پہناؤں گا ۔''پھر حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد بن سَلَمَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فقہاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی جماعت کے ساتھ مل کر غسل دیا، قمیص کوکفنی اور آپ کی چادر کو ازار (یعنی کفن کی چادر)بنایااورخوشبو وغیرہ لگائی۔ پھر حاکم نے سفید قیمتی کپڑا منگوا کراپنی طرف سے کفن پہنایا۔جب حاکم کی طرف سے دیئے جانے والے کفن کی قیمت معلوم کی گئی تووہ دو سو(200) دینار تھی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاجنازہ قبرستان لایا گیا اور بعد نمازِ مغرب اس ولئ کامل کو دفنا دیا گیا ۔

    حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمن کہتے ہیں: مجھ سے حضرتِ سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوہاب نے فرمایا:'' مجھے حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے متعلق کچھ بتاؤ۔''جب میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ان کے اَخلاق وعبادات کے متعلق بتایا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ روتے ہوئے فرمانے لگے: ''کیاتم جانتے ہوکہ حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کون تھے؟ سنو! ان کے بعد ان جیسا کوئی اور نہیں ملے گا، وہ امام تھے ،فاضل تھے ،اَدب سکھانے والے، نصیحت کرنے والے اور بہترین اُستاذ تھے۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ  عليہ وسلم)
حکایت نمبر438:             سب سے بڑی بدبختی
    حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل بن ابوحَکِیم علیہ رحمۃ اللہ الحکیم کہتے ہیں: '' جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر خلیفہ بنے تو انہوں نے مجھے فدیہ دے کر مسلمان جنگی قیدیوں کوچھُڑانے کے لئے بھیجا ۔جب میں ''قُسْطَنْطِینِیَّہ'' پہنچا تو ایک شخص کے گانے کی آواز سنی، میں نے پوچھا:'' تو کون ہے ؟'' کہا:'' میں ابو وَابِصِی ہوں، عیسائیوں نے مجھ پربہت ظلم وستم کیا طرح
Flag Counter