Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
322 - 412
وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿38﴾  مَا خَلَقْنٰہُمَاۤ  اِلَّا بِالْحَقِّ
ترجمہ کنزالایمان:اورہم نے نہ بنائے آسمان اورزمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طورپر۔ہم نے انہیں نہ بنا یا مگرحق کے ساتھ۔(پ25،الدخان:38۔39)

    پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آوازبند ہوگئی ۔ حضرتِ سیِّدُنا عبد الرحمن بن مَہْدِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں نے حضرتِ سیِّدُنا حَمَّادبن سَلَمَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو یہ فرماتے سنا :''خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم!اس عظیم ولی کے بعدمشرق ومغرب میں اس کی مثل کوئی نہیں۔یہ بزرگ انبیاء کرام علیہم السلام کی سنتوں کے آئینہ دار تھے۔'' یہ کہہ کر حضرت سیِّدُنا حَمَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد رونے لگے، یہاں تک کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آواز بلندہوگئی ۔میں نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر رحم فرمائے۔ اطمینان رکھئے اور رونا موقوف کر دیجئے۔''

     آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے'' اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن'' پڑھ کر کہا:'' اے عبدالرحمن بن مَہْدِی علیہ رحمۃ اللہ القوی !تیرا بھلا ہو! ان کے بعدایسا کون ہے جس پر رویا جائے ۔''کچھ دیر بعد حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کلام کرنے لگے اور مجھے پکارا۔ میں نے کہا:'' میں حاضر ہوں۔'' فرمایا:''دینار کا چوتھا حصہ دے کرمیری قبر کھدوانا، دینا ر کے چوتھے حصے کی خوشبو وغیرہ خریدنا اور نصف دینار کا کفن خرید لینا مجھے میری اسی چادر میں غسل دینا پھر اسے ہی میرے کفن کی چادر بنا دینااور جو قمیص میں نے پہنی ہوئی ہے اسے پھاڑ کر دھوکر میرے کفن کی قمیص بنا دینا مجھ پر اس سے زائد بوجھ نہ ڈالنا اور یہ تمام کام اس وقت کرنا جب مجھے اس مکان سے دور لے جاؤ ورنہ اژدہام(یعنی لوگوں کاہجوم) ہوجائے گا اور تجھے میری وجہ سے مشقت ہوگی اور میں نہیں چاہتا کہ تجھے مشقت ہو۔ پھر میری نمازِ جنازہ پڑھنا ، خبردار چیخ وپکار ہرگز نہ کرنا۔'' اتنا کہہ کر ولی ئکامل حضرتِ سیِّدُناسُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی داعی اَجل کو لَبَّیْک کہتے ہوئے اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
 (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن)
 (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ  عليہ وسلم)

    میں نے حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد کودیکھاکہ روتے روتے ان کی ہچکیاں بند ھ گئیں۔ میں نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کواَجرِعظیم عطا فرمائے ۔ صبر کیجئے ۔''فرمایا : ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں بھی اجر عطا فرمائے ۔'' پھر میں نے حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی پر کپڑا ڈال دیا، گھرکی عورتیں شدتِ غم سے رو رہی تھیں لیکن ان کی آواز پست تھی۔ میں نے حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد سے کہا: ''ان کے غسل وغیرہ کے متعلق آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کیا رائے ہے۔'' فرمایا:''اس وقت تک انہیں بالکل حرکت نہ دینا جب تک ہم انہیں اس مکان سے دور نہ لے جائیں۔'' چنانچہ، ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جسم مُبَارَک کو لے چلے، راستے میں کچھ لوگوں نے دیکھا تو جمع ہوگئے اور کہا:'' یہ تو میِّت ہے۔'' جب انہوں نے چادر ہٹاکر دیکھا تو کہا: '' ہم اسی کوفی کی تلاش میں تھے۔'' کچھ دیر بعد حاکمِ وقت بھی آگیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی میِّت کی
Flag Counter