ہائے !اب ایسے علماء کہاں ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام کے جانے کے بعد ان کے وارث بنتے ہیں ۔ہائے! وہ اس فانی دنیا کو اس کے چاہنے والوں کے لیے چھوڑ کردارِبقاء کی طرف چلے گئے ،انہیں عالِم اس لئے کہا گیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا جو حق ان پر ہے اسے پہچانتے ہیں اور ان کا اپنے اوپر جو حق ہے اسے بھی جانتے ہیں۔پس یہ لوگ آگ سے دور بھاگتے اور جنت کی امید رکھتے ہیں ۔جو چیزیں اللہ رَبُّ العِزَّت عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہیں یہ بھی انہیں ناپسند کرتے ہیں اورجسےاللہ عَزَّوَجَلَّ پسند فرماتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔اے حَمَّاد!دنیا کی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے علماء سے بچنا !بے شک جو بھی ان کے قریب جائے گا یہ اسے فتنے میں ڈال دیں گے۔ اگر کوئی جاہل ان کے پاس بیٹھے گا تو اس کی جہالت میں مزید اضافہ ہوگا،کوئی جاننے والا ان کے پاس جائے گا تو یہ اس کی فکرِآخرت میں کمی کا سبب بنیں گے۔ ایسے ہی لوگوں کے کاموں سے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ڈرایا اور ان کے ساتھ بیٹھنے سے منع فرمایاہے۔
اے حَمَّاد !تو جہاں بھی رہے ہر حال میں ہر جگہ صدق کو اپنے اوپر لازم رکھنا کیونکہ سچائی کی بدولت اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے عزت عطا فرمائے گا۔ صبر کو اپنے اوپر لازم کرلینا! بے شک یہ دین کا بادشاہ ہے، یقین کو مضبوطی سے تھام لیناکیونکہ یہ ا سلام کی بلندی کا سر چشمہ ہے۔اے حَمَّاد !علمِ دین کو مخلوق میں سے کسی کے ہاتھ نہ بیچنا بلکہ اس کے ذریعے اس رحیم وکریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہونا جو چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی قبول کرتا اور بڑے سے بڑے گناہ کو بھی معاف فرمادیتا ہے۔ یہ میری وصیت ہے، اسے مضبوطی سے تھام لینا ۔اتنا کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر غشی طاری ہوگئی ہم نے دیکھا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جسم سے پسینہ نکل رہا تھا اور قدم ٹھنڈ ے ہوچکے تھے ۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ہوش آیا تو فرمایا :''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ بے شک مؤمن ہر حال میں بھلائی کو پہنچتاہے۔مؤمن کی روح اس کے پہلوؤں سے نکلتی ہے اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرتا ہے، تمام تعریفیں اسی خدائے بزرگ وبرتر کے لئے ہیں جو اکیلا ہی ہرحمدِ حقیقی کے لائق ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا حَمَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا : ''لَا اِلٰہَ اِلَّااللہ پڑھئے ۔''تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کلمہ طیبہ پڑھ کر یہ آیتِ کریمہ تلاوت کی :