Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
320 - 412
اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو برکت عطا فرمائے۔ ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بہت زیادہ مشتاق تھے۔ حضرتِ سیِّدُناسُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو ہوش آیا تو کہا:''تمام تعریفیں اس پاک پرورد گارعَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنی مخلوق کے فنا ہونے کا فیصلہ فرمایا۔'' میں نے عرض کی :''حضور! دیکھئے! حضرتِ سیِّدُناحَمَّاد بن سَلَمَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس موجود ہیں۔'' فرمایا:'' اے میرے بھائی! مرحبا، مرحبا !میرے قریب آجاؤ! اے حَمَّاد!اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہنا اور حالتِ نزع کی تکالیف کو دیکھ لو عنقریب تم پربھی یہ کیفیت طاری ہونے والی ہے۔ تم نہیں جانتے کہ پیغامِ اَجَل تمہیں اپنے گھر میں آئے گایا کہیں اور، صبح آئے گا یا شا م کو ۔

    یہ سن کر میں اور حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد فکرمیں مبتلا ہوگئے اورآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر غشی طاری ہو گئی ۔جب اِفاقہ ہوا تو فرمایا: '' اے حَمَّاد !ذرا سوچ اور اس بارے میں غوروفکر کر، جب تواللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضرہوگا ۔ اے حَمَّاد!اگر تو رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابۂ کرام علیہم الرضوان کو دیکھ لیتا تو کبھی بھی دنیاوی زندگی کو پسند نہ کرتا، وہ لوگ وصال کے اتنے شوقین تھے کہ موت بھی ان کی اتنی خواہش مند نہ ہوگی ۔وہ گمان کرتے تھے کہ گویا ہم جہنم میں داخل ہوں گے بس یہی سوچ کر وہ تڑپتے اور روتے رہتے اور ان کی آنکھوں سے سَیْلِ اَشک رَواں ہوجاتا حالانکہ جنت ان کے سامنے ہوا کرتی تھی، وہ ساری ساری رات قیام وسجود میں گزار دیتے تھے ۔اللہ ربُّ العزّت نے اپنی پاکیزہ کتاب قرآنِ پاک میں ان کی عمدہ صفات اور بہترین اوصاف کا ذکر فرمایا۔اے حَمَّاد!غرو رو تکبر ،ریاکاری اور خود پسندی سے بچتے رہنا،ان صفاتِ مذمومہ (یعنی بری صفات) کے ہوتے ہوئے دِین سلامت نہیں رہتا ۔اے حَمَّاد !چھوٹوں کے لئے سراپا شفقت اور بڑوں کے لئے سراپاعاجزی و محبت بن جاؤ۔ لوگوں کے لئے وہی بات پسند کرـ جب تمہیں تنہائی میسر آئے توسفرِ آخرت کے بارے میں غوروفکرکرکے اپنے آپ پر خوب رویا کرو اور سوچا کرو کہ تمہاری ابتداء و انتہاء کیا ہے۔ غور وفکر کر کہ تجھے ایک امرِعظیم درپیش ہے، وہ امر ایسا سخت ہے کہ اس کی سختی لوہاوپتھر بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ اگر تو اس دُشوار گزار گھاٹی سے نجات پاگیا تو سمجھ لے کہ تو کامیاب ہوگیا اور اگر خدانخواستہ اس گہری کھائی میں گرگیا تو بد بختوں میں سے ہوگا اور تجھے ایسا غم ملے گاجو کبھی ختم نہ ہوگا اورآگ میں جلنے والے کو سکون نہیں ملتا ۔اے حَمَّاد ! اغنیاء کی مجالس سے بچتے رہنا !بے شک وہ تیری زندگی تیرے لئے ناپسندیدہ بنا دیں گے ۔مغروروں کی مجالس میں ہرگزنہ بیٹھنا، ان کی صحبت سے بچتے رہنا۔ اگر ان کے ساتھ بیٹھے گا تو وہ تجھے اپنی بری عادتیں سکھائیں گے۔ ہاں!علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضری لازم کر۔ان کے سامنے نرمی سے گفتگو کر، انہیں گھُور گھُور کر ہرگز نہ دیکھنا ،نہایت عاجزی و اِنکساری کے ساتھ ان سے ملنا، اگر تو ایسا کریگا توان کی بھلائیوں سے تجھے بھی حصہ ملے گا اورتو ان کی برکتوں سے فیض یاب ہوگا ۔