ایمان افروز باتیں سن کر مجھ پر رقت طاری ہوگئی ،روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر غشی طاری ہو نے لگی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ۔ہائے موت کا درد !ہائے موت کا درد !لیکن یہ آواز اس وقت آئی جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہوش میں نہ تھے ورنہ بحالت ہوش آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک مرتبہ بھی دردو اَلَم کی شکایت نہ کی۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ہوش آیا تو فرمایا :''
میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کے قاصدوں (یعنی فرشتوں)کی آمد مرحبا! طَیِّبِین کو خوش آمدید!''یہ کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پھر بے ہوش ہوگئے۔میں سمجھا کہ شاید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوگیاہے ، میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پیشانی سے پسینہ صاف کرنے لگا کچھ دیر بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا:''اے عبدالرحمن !پڑھو ۔''میں نے عرض کی:''کیا پڑھوں؟'' فرمایا: ''رحمت کے فرشتوں کو لانے والی اور شیطانوں کودور کرنے والی سورت ( یٰسین شریف )کی تلاوت کرو۔''
میں نے سورۂ یٰسین شریف کی تلاوت شروع کی،دوران تلاوت مجھ پر رقت طاری ہوگئی، رونے کی وجہ سے مجھ سے بعض حروف کی صحیح ادائیگی نہ ہو سکی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''جن الفاظ میں غلطی ہوئی ہے انہیں دوبارہ پڑھو ۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہ غلطی درست کرائی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پرپھر غشی طاری ہوگئی ۔کچھ دیر بعد آنکھیں کھو ل کر اُوپر کی جانب دیکھنے لگے ۔ گھروالے اور بچے رونے لگے، ان کی ہلکی ہلکی چیخیں بلند ہوئیں لیکن یہ آواز گھر تک ہی محدود تھی باہر سنائی نہ دیتی تھی۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کچھ ہوش آیا توفرمایا :''یہ چیخ وپکا ر اور رونا کیسا ؟''میں نے عرض کی:'' گھر کی عورتوں پر رقت طاری ہوگئی ہے۔'' فرمایا :' ' اللہ تبارک وتعالیٰ تم پر رحم فرمائے، خاموش ہو جاؤ! چیخ وپکار اور رونا بند کرو! اپنے کپڑے ہر گز نہ پھا ڑنا کیونکہ نوحہ کرنا اور کپڑے پھاڑنا زمانہ جاہلیت کے کام ہیں، ان چیزوں کو ترک کرو اور اس طرح کہو:''اے سُفْیَان ثَوْرِی!اللہ تبارک وتعالیٰ قولِ ثابت کے ساتھ تجھے ثابت قدم رکھے ۔تیری حجتیں تجھے پہنچ جائیں ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحمت کے فرشتے نازل فرمائے۔'' میرے انتقال کے بعد کثرت سے یہ دعا ئیں کرنا ۔ابھی اس طرح دعا کرو: ''اے ہمارے پرورد گار عَزَّوَجَلَّ!جو ہم دیکھ رہے ہیں ہمیں اس سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس پر یقینِ کامل عطا فرما ۔''(آمین)
حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں: پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا:'' حَمَّادبن سَلَمَہ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کو میرے پاس بلا لاؤ، میں پسند کرتا ہوں کہ وقتِ رخصت وہ میرے پاس موجود ہوں۔'' میں حضرتِ سیِّدُنا حَمَّاد بن سَلَمَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس گیا اور عرض کی: ''حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی حالتِ نزع میں ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فوراً ننگے پاؤں صرف ایک چادر پہنے جلدی جلدی وہاں پہنچے۔ اس وقت حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی پر غشی طاری تھی۔ حضرتِ سیِّدُنا حَمَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد نے فرطِ محبت میں ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور روتے ہوئے کہنے لگے:''اے ابوعبداللہ!