حکم دے رہا تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار نے مجھ سے فرمایا: ''اے جَعْفَر (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)!دیکھو تو سہی!یہ نوجوان اس محل کی تعمیر میں کتنی دلچسپی لے رہا ہے ۔ میں اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے دعا کروں گا کہ وہ اسے دنیوی محبت سے چھٹکارا عطا فرمائے ۔ مجھے امید ہے کہ میرا مولیٰ عَزَّوَجَلَّ اس نوجوان کو جنتی نوجوانوں کی صف میں شامل فرمائے گا۔ آؤ!ہم اسے نیکی کی دعوت دیتے ہیں ۔''
ہم نوجوان کے پاس آئے اور سلام کیا۔ اس نے بیٹھے بیٹھے ہی سلام کا جواب دیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے سامنے ایک ولئ کامل کھڑا ہے ۔جب لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفارہیں تو وہ فوراً کھڑا ہوا اور بڑے مؤدِّبا نہ انداز میں عرض گزار ہوا:'' حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مجھ سے کوئی کام ہے ؟'' فرمایا :'' اے نوجوان ! تیرا اس محل کی تعمیر پر کتنی رقم خرچ کرنے کا ارادہ ہے ؟'' کہا :'' ایک لاکھ درہم۔ '' فرمایا :'' کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم ایک لاکھ درہم مجھے دے دو میں یہ تمام رقم اس کے حق داروں ،یتیموں اور مساکین میں تقسیم کردو ں اور اس کے بدلے ایک ایسے محل کا ضامن بن جاؤں جس میں بہترین خدمت گزار، سرخ یا قوت کے قُبّے اور عمدہ قمقے ہونگے ، وہاں کی مِٹی زعفران کی ا ور فر ش مُشک کا ہوگا ، وہ محل تیرے اس محل سے بہت زیادہ وسیع وعالی ہوگا ، اس کے درودِیوار میلے نہ ہونگے ، اسے معماروں اور مزدوروں نے نہیں بنایا بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حکم فرمایا اور وہ محل بن گیا ۔بتا ؤ تمہیں یہ سودا منظور ہے ؟ ''
نوجوان نے کہا:'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک رات کی مہلت دے دیں ، کل صبح میں آپ کو بتاؤں گا کہ میں نے کیا فیصلہ کیا۔'' حضرتِ سیِّدُنا جَعْفَر بن سلیمان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں کہ :''وہ رات حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار نے بڑی بے چینی کے عالم میں گزاری، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ساری رات اسی نوجوان کے بارے میں سوچتے رہے ، تہجد کے وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس نوجوان کے لئے خوب دعا کی ۔فجر کی نماز کے بعد ہم دوبارہ اس کے پاس گئے۔ وہ ہمارامنتظر تھا جیسے ہی اس کی نظر حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار پر پڑی وہ اتنہائی خوشی کے عالم میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف لپکا اور بڑی گرم جوشی سے ملاقات کی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''اے نوجوان! تونے کیا فیصلہ کیا ؟ اس نے ایک لاکھ درہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا:'' مجھے جنتی محل کا سودا منظور ہے ،آپ مجھے ضمانت نامہ لکھ دیجئے۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قلم ،دوات منگواکر ایک کاغذ پر یہ الفاظ لکھے: