حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن مَہْدِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: وصال سے قبل حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو پیٹ کا مرض لاحق ہو گیا ۔ میں آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے عرض کی :''حضور! میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تیمارداری میں مشغول رہتا ہوں جس کی وجہ سے با جماعت نمازادا نہیں کر سکتا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟'' فرمایا:''کسی مسلمان کی لمحہ بھر کے لئے خدمت کرنا ساٹھ(60) سال کی باجماعت نمازوں سے افضل ہے۔ میں نے عرض کی:'' حضور! یہ بات آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کس سے سنی؟'' ارشاد فرمایا :'' میں نے حضرتِ سیِّدُنا عاصم بن عُبیداللہ بن عبد اللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، انہوں نے حضرتِ سیِّدُناعامررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ'' کسی بیمار مسلمان بھائی کی ایک دن خدمت کرنا مجھے ان ساٹھ (60)سال کی باجماعت نمازوں سے زیادہ پسند ہے جن میں کبھی تکبیرِ اولیٰ بھی فوت نہ ہوئی ہو۔''
جب مرض طول پکڑ گیا توآپ کو گُھٹن سی محسوس ہوئی اور'' اے موت!اے موت !'' کہنے لگے۔ پھر فرمایا :'' میں نہ تو موت کی تمنا کررہا ہوں نہ ہی مو ت کی دعا مانگ رہا ہوں۔ بلکہ میں تو''لفظ ِموت'' کہہ رہا ہوں۔''جب وصال کا وقت قریب آیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زار وقطار رونے لگے ۔میں نے عرض کی:'' اے ابو عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!یہ رونا کیسا ؟'' فرمایا :'' موت کے وقت کی شدید تکلیف کی وجہ سے رو رہا ہوں، اے عبدالرحمن!اللہ عَزَّوَجَلَّ، زبردست طاقت والا ہے ۔''میں نے دیکھا کہ کثرت بکاء (یعنی بہت زیادہ رونے)کی وجہ سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آنکھیں ڈھلک گئی تھیں اور پیشانی پر پسینہ آرہا تھا ۔فرمایا :''میری پیشانی سے پسینہ صاف کردو۔'' میں نے پسینہ صاف کیا تو دوبارہ آگیاتو آپ نے کہا : ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ۔'' (پھر فرمایا)میں نے حضرتِ سیِّدُنامنصور سے، انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا ہِلَال بن یَسَا ف سے، انہوں نے حضرتِ سیِّدُنابُرَیْدَہ اَسْلَمِی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے روایت کی:آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ '' میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، بِاذ ْنِ پروردْگاردو عالَم کے مالک و مختارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا:'' بے شک مؤمن کی روح پسینے کے ساتھ نکلتی ہے۔''