والسلام نے ارشاد فرمایا:''کیا تجھے اس شخص پر تعجب نہیں ہو رہاجسے مقام'' ابواء'' پر ایک دیہاتی عورت کا واقعہ پیش آیا ۔آپ علیہ السلام کی یہ بات سن کر میں سمجھ گیا کہ آپ علیہ السلام نے کس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ میں پھر رونے لگا جب بیدار ہواتو میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور میں بلند آواز سے رورہا تھا۔ اے سلمان! خبردار! میرے جیتے جی یہ واقعہ کسی کو نہ بتانا ۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار نے حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کی زندگی میں یہ واقعہ کسی کو نہ سنایا۔ جب ان کا انتقال ہوگیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے گھر والوں کو یہ واقعہ بتایا۔ پھر حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کی وفات کے بعد یہ واقعہ پورے شہر میں مشہورہو گیا ۔
حضرتِ سیِّدُنا مُصْعَب بن عثمان علیہ رحمۃ الرحمن سے منقول ہے کہ یہ واقعہ حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کے ساتھ پیش آیا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ ایک مرتبہ ایک حسین وجمیل نوجوان عورت نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر میں داخل ہوکر گناہ کی دعوت دی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انکار کردیا۔ وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف بڑھی اور کہا:'' میرے قریب آ۔''تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسے وہیں چھوڑکر گھر سے بھاگ گئے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''پھرایک دن خواب میں مجھے حضرتِ سیِّدُنا یوسف علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی زیارت ہوئی تو میں نے عرض کی:''حضور! کیا آپ ہی اللہ عَزَّوَجَل کے برگزیدہ نبی حضرتِ سیِّدُنا یوسف علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام ہیں؟'' ارشاد فرمایا :'' ہاں! میں ہی یوسف (علیہ السلام )ہوں۔''پھرفرمایا:''اور تووہی ہے کہ جسے گناہ کی دعوت دی گئی لیکن اس نے گناہ کا ارادہ بھی نہ کیا۔''
حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء اور حضرتِ سیِّدُناسلیمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما دونوں بھائی تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء بڑے اور حضرتِ سیِّدُنا سلیمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہماچھوٹے تھے۔ یہ دونوں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا مِیْمُوْنَہ بنت حَارِث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرتِ سیِّدُنا اُبی بن کَعْب، حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعود، حضرتِ سیِّدُنا ابوایوب، حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ، حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید ،حضرتِ سیِّدُناابن عبّاس، حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے احادیثِ مبارکہ سنیں۔مَیں نے اور ان دونوں نے حضرتِ سیِّدَتُنامَیْمُوْنَہ بنت حَارِث رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے احادیثِ مبارکہ روایت کی ہیں۔ ممکن ہے ان دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کے ساتھ عورت والا واقعہ علیحدہ علیحدہ پیش آیا ہو۔