حضرت سیِّدُناعطا بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار اکیلے ہی سامان کے قریب نماز پڑھنے لگے۔ کچھ دیر بعد قریبی بستی سے ایک حسین وجمیل عورت وہاں آئی اور قریب آکر بیٹھ گئی ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سمجھا کہ کوئی مجبور عورت ہے اور کسی حاجت سے آئی ہے۔ اس لئے نماز کو مختصر کیا اور سلام پھیرنے کے بعد پوچھا:''کیا تمہیں کوئی حاجت ہے ؟''اس نے کہا :''جی ہاں ۔'' پوچھا: ''کیا چاہتی ہو؟'' کہا: '' وہی چاہتی ہوں جوعورتیں مردوں سے چاہتی ہیں، تم میری خواہش پوری کردو۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''جا!یہاں سے چلی جا! مجھے اور خود کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا ایندھن نہ بنا۔ عورت پر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اس بات کا کچھ اثر نہ ہوا وہ مِنَّت سماجت کرتے ہوئے مسلسل دعوتِ گناہ دیتی رہی۔ لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ہر بار اس کی بات کو رَد کیا۔ جب وہ بہت زیادہ اصرار کرنے لگی توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خوفِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کے باعث رونے لگے اور فرمانے لگے: ''تجھے خداعَزَّوَجَلَّ کا واسطہ! مجھ سے دُور چلی جا، جا! مجھ سے دور چلی جا۔'' جب عورت نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی گریہ و زاری دیکھی تو وہ بھی رونے لگی ۔ اتنے میں حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار آپہنچے۔ جب انہوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ایک عورت کو روتے دیکھا توخود بھی رونے لگے حالانکہ وہ جانتے نہ تھے کہ یہ دونوں کیوں رورہے ہیں۔ پھر شرکائے قافلہ میں سے جو بھی وہاں آتا انہیں روتا دیکھ کر رونا شروع کردیتا کسی نے بھی رونے کا سبب نہ پوچھا۔ بس ایک دوسرے کو دیکھ کر ہر ایک روئے جا رہا تھا۔ پھروہ عورت اُٹھی اور روتی ہوئی اپنی بستی کی طرف چلی گئی ۔ دوسرے لوگ آہستہ آہستہ کھڑے ہوئے اور اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔کسی نے بھی حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے رعب وجلال کی وجہ سے ان سے اس عورت اور رونے کے متعلق نہ پوچھا ۔
حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن یَسَار علیہ رحمۃ اللہ الغفار فرماتے ہیں :بالآخرایک دن میں نے ہمت کرکے پوچھا:'' اے میرے بھائی! اس عورت کا کیا قصہ تھا؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''میں تمہیں سارا واقعہ بتاتا ہوں لیکن خبردار جب تک میں اس دنیا میں زندہ رہوں یہ واقعہ کسی کو نہ بتانا۔'' میں نے کہا:''ٹھیک ہے! میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم کی تعمیل کروں گا ۔''پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پو را واقعہ بتایا اور کہا: '' اس رات میں نے خواب میں حضرتِ سیِّدُنا یوسف علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی زیارت کی ، میں شوق سے ان کی زیارت کرتا رہا پھر ان کا حسن وجمال اور نورانیت دیکھ کر مجھ پر رقت طاری ہوگئی میں زاروقطار رونے لگا ،یہ دیکھ کراللہ عَزَّوَجَلَّ کے برگُزیدہ نبی حضرتِ سیِّدُنا یوسف علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے میری جانب نظرِکرم فرمائی، لبہائے مبارکہ کو جُنبش ہوئی ارشاد فرمایا :''اے شخص !تمہیں کس چیز نے رُلایا ہے ؟'' میں نے دست بستہ عرض کی:
''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی! میرے ماں باپ آپ علیہ السلام پر قربان !مجھے آپ علیہ السلام کے عزیزِ مصرکی بیوی کے معاملے میں آزمائش میں مبتلا ہونے، قید میں جانے ، حضرتِ سیِّدُنایعقوب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے آپ کی جدائی ، آپ کی پاکدامنی اور صبر وشکر پر تعجب ہو رہا ہے۔'' یہ سن کر حسن وجمال کے پیکر حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن یعقوب علٰی نبیناوعلیہما الصلٰوۃ