| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
اللہ عَزَّوَجَلَّ میں شیطان کے خفیہ واروں سے بچائے۔ہم اللہ ربُّ العِزّت کی بارگاہ میں دعاکرتے ہیں کہ وہ ہمیں مسلمانوں کی غیبت کرنے سے محفوظ رکھے۔ ( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
اے میرے بیٹے! غیبت سے کوسوں دوربھاگ!ہمیشہ اس سے بچتارہ،بے شک قرآن مجیدمیں غیبت کومُردارکاگو شت کھانے کی طرح کہاگیاہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا
ترجمۂ کنزالایمان: کیاتم میں کوئی پسندرکھے گاکہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے۔(پ26،الحجرات: 12)
اسی طرح غیبت کی مذمت پر حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بہت سی احادیث ِمبارکہ مروی ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں غیبت کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھے ۔( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غیبت ہمارے معاشرے کاایک ایسا ناسُورہے جس نے مسلمانوں کی محبت کے بندھن کو توڑنے میں بہت گھناؤنا کرداراداکیاہے۔اسی برائی کے سبب مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے درمیان ذلیل و رُسوا ہو رہا ہے۔اس خصلتِ بدنے ایک دوسرے کی عزت وتکریم کے جذبے کوملیامیٹ کرکے رکھ دیاہے ۔نہ توغیبت کرنے والااس برائی سے بچنے کی کوشش کرتاہے اورنہ ہی سننے والے اس کوروکتے بلکہ خودبھی ہاں میں ہاں ملاکراپنے آپ کو گندگی کے عمیق گڑھے میں گرالیتے ہیں۔ غیبت صراحۃً بھی ہوتی ہے اوراشارۃً بھی ،الفاظ سے بھی اورانداز سے بھی ۔غیبت کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لئے امیرِاہلسنت، بانئ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ کے انتہائی پُراَثررسالے ''غیبت کی تباہ کاریاں ''کامطالعہ کیجئے۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ غیبت جیسی خصلتِ بدسے توبہ کرنے اوردوسروں کو اس برائی سے بچانے کاذہن بنے گا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں غیبت اوردیگرتمام گناہوں سے بچنے کی توفیق عطافرمائے۔)( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)حکایت نمبر436: خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ کی اعلیٰ مثال
حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن زید بن اَسلم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُناعَطَا بن یَسَار اورحضرت سیِّدُنا سلیمان بن یَسَارعلیہمارحمۃ اللہ الغفار اپنے چند رفقاء کے ہمراہ حج کے لئے حرمین شریفین زَادَ ھُمَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاکی جانب روانہ ہوئے۔ مقامِ''اَبْوَاء'پر قافلے نے ایک جگہ قیام کیا۔ حضرت سیِّدُناسلیمان علیہ رحمۃ الرحمن اور شرکائے قافلہ کسی کام سے چلے گئے اور