Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
314 - 412
کرنے سے بچتے ہو؟اس کی برائی بیان کرو تاکہ لوگ اس سے اجتناب کریں( یعنی بچیں)۔''
(الموسوعۃ لابن أبی الدنیا،کتاب الغیبۃ والنمیمۃ،باب الغیبۃ التی یحل ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۸۴،ج۴،ص۳۷۴)
    اس حدیث کودلیل بناکر لوگوں کی غیبت کی جاتی ہے۔حالانکہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ نفس کی خاطرکسی مسلمان کی برائی بیان کی جائے نہ ہی یہ ثابت ہوتاہے کہ تو مسلمان کی اس برائی کو خواہ مخواہ لوگوں پرظاہرکرے جس کا تجھ سے سوال ہی نہیں کیا گیا ، ہاں! اگرکوئی تیرے پاس آئے اورکہے: '' میں فلاں شخص سے اپنی بیٹی کی شادی کر نا چاہتاہوں، آپ اس بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں ؟'' تو اب اگر تُواس شخص کی بری اورنامناسب باتیں جانتاہے یا یہ جانتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی حرمت کاخیال نہیں رکھتا تو اب تجھے جائزنہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کومشورہ دینے میں خیانت سے کام لے ۔بلکہ اسے احسن طریقے سے اس جگہ شادی کرنے سے روک دے۔

    اسی طرح اگرکوئی شخص تیرے پاس آکرکہے: ''میں فلاں کے پاس کچھ رقم امانت رکھناچاہتاہوں ۔آپ کااس بارے میں کیا مشورہ ہے ؟'' اگرتُواس شخص کے بارے میں جانتاہے کہ وہ امانت رکھنے کے قابل نہیں تو تیرے لئے جائزنہیں کہ ا پنے مسلمان بھائی کے مال کوضائع کروائے بلکہ اسے احسن طریقے سے اس کے پاس امانت رکھنے سے روک دے۔اسی طرح ا گر کو ئی پوچھے کہ ''فلاں کے پیچھے نمازپڑھناچاہتاہوں یافلاں کواستاد بناناچاہتاہوں،آپ کی اس بارے میں کیارائے ہے ؟'' تواگر تُواس کو امام یا استاد بننے کے قابل نہیں سمجھتاتوضروری ہے کہ سائل کواَحسن طریقے سے منع کرد ے۔ لیکن ان تمام باتوں میں دل کی بھڑاس نکالنا مقصود نہ ہو بلکہ احسن طریقہ اختیار کیا جا ئے۔

    توجہ سے سن!قاریوں ،عابدوں اورزاہدوں کے غیبت میں پڑنے کاسبب'' تعجب ''ہے ۔وہ تعجب کااظہارکرتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کربیٹھتے ہیں۔ پھرکہتے ہیں کہ ہم توتعجب کررہے ہیں ۔حالانکہ اس تعجب ہی میں وہ مسلمان کی برائی بیان کر جاتے ہیں اوراس کی غیرموجودگی میں ایسی بات کرتے ہیں جوایذاء کاسبب ہوتی ہے ۔پس یہ لوگ اس طرح اپنے مسلمان بھائیوں کاگوشت کھانے لگتے ہیں ۔رہے استاد ،سرداراورحاکم وہ شفقت ورحمدلی کے طریقے سے غیبت کی گہری کھائیوں میں جا گرتے ہیں۔مثلاََکوئی استاذیاسرداراپنے شاگرد یا ماتحت کے بارے میں کہتاہے: ''افسوس!بے چارہ مسکین فلاں فلاں کام میں پڑ گیا، ہائے ہائے! بے چارہ فلاں برائی کامرتکب ہوگیا۔'' اس طرح کی باتیں کرکے وہ سمجھتاہے کہ میں اس سے محبت اورشفقت کی وجہ سے ایساکہہ رہا ہوں حالانکہ وہ غیبت جیسی برائی میں پڑچکاہوتاہے۔پھریہ استاداپنے شاگردکی برائی کودوسروں کے سامنے ظاہر کرتا اورکہتا ہے:''میں نے تمہارے سامنے اس کی برائی اس لئے بیان کی تاکہ تم اپنے بھائی کے لئے کثرت سے دعا کرو۔'' اپنے گمان میں یہ اسے شفقت ومحبت سمجھتاہے لیکن حقیقت میں یہ غیبت کررہاہوتاہے۔
Flag Counter