| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
موجودسب لوگوں نے تکبیر کہی، میں نے بھی بآوازِ بلندتکبیرکہی ۔پھرمیری آنکھ کھل گئی۔ میری زبان پر ابھی تک اللہُ اَکْبَر،اللہُ اَکْبَرکی صدائیں جاری تھیں،کافی اُجالاہوچکاتھا۔میں نے جلدی سے وضوکر کے نمازِفجرادا کی،کچھ لوگ مسجدمیں بیٹھے بالکل اسی طرح باتیں کررہے تھے جیسامیں نے خواب میں دیکھا تھا،وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے: ''میں نے تجھے فلاں جگہ دیکھا،میں نے تجھے فلاں جگہ دیکھا۔''پھر مجھ سے بھی کہنے لگے: ہم نے تمہیں بھی فلاں جگہ دیکھا ہے۔ ایسالگتاتھاجیسے وہاں کی تمام اشیاء ہم نے سر کی آنکھوں سے دیکھی ہوں۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر435: غیبت کے اَسباب
حضرتِ سیِّدُنا بَکْربن احمدعلیہ رحمۃ اللہ الاحدفرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن احمدعلیہ رحمۃ اللہ الاحد کویہ فرماتے سنا: ''ایک مرتبہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا حَارِث مُحَاسِبِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے غیبت کے متعلق پوچھا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''غیبت سے بچ!بے شک وہ ایسا شرہے جسے انسان خودحاصل کرتاہے ۔تیرا اس چیزکے بارے میں کیاخیال ہے جوتجھے اِحسان بھولنے پراُبھارے،تجھ سے تیری نیکیاں چھین کرتیرے اُن مخالفین کو دے دے جن کی تُونے غیبت کی ہے۔یہاں تک کہ وہ تیری نیکیوں سے راضی ہو جائیں کیونکہ بروزِ قیامت درہم ودینارکام نہیں آئیں گے۔بے شک! جتناتُومسلمانوں کی عزت سے لے گااتنی مقدارمیں تیرادین تجھ سے لے لیاجائے گا،لہٰذاغیبت سے بچ،غیبت کے منبع(یعنی نکلنے کی جگہ)اورسبب کوپہچان کہ تجھ پر غیبت کن جگہوں سے آتی ہے ۔
توجہ سے سن !بے شک بے وقوف اورجاہل لوگ غیبت میں ایسے پڑتے ہیں کہ گنہگاروں پرخواہ مخواہ غصَّہ کرتے اوران سے حسد اوربدگمانی کرتے ہیں اور اس غصے کودینی غیرت کانام دیتے ہیں۔یہ ایسی برائیاں ہیں جوبالکل ظاہرہیں پوشیدہ نہیں۔ اہلِ علم غیبت میں اس طرح مبتلا ہوتے ہیں کہ شیطان ان کواپنے مکرمیں پھنسا لیتاہے ،وہ کسی کی برائی بیان کرتے ہیں توکہتے ہیں: ''ہم تواس کی نصیحت کے لئے ایساکررہے ہیں۔ہم تواس کے خیر خواہ ہیں ۔''حالانکہ ایسانہیں کیونکہ اگر واقعی وہ خیرکے طالب ہوتے توکبھی غیبت جیسی برائی میں نہ پڑتے اوران کی نصیحت غیبت پرمعاون نہ ہوتی ۔ علماء میں سے جب کوئی عالم کسی کی برائی بیان کرتاہے توکہتاہے : کیارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے یہ حدیث مروی نہیں:''کیاتم برے شخص کا تذکرہ