فضال، سِبْطَیْن اورفلاں فلاں علاقے کے لوگوں کوبُلالاؤ،ان میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہ رہنے پائے۔''
وہ شخص لوگوں کوبلالایا جب سب جمع ہوگئے توانہیں اس عظیم الشان محل میں داخلے کی اجازت مل گئی۔میں بھی ان کے ساتھ محل میں داخل ہوگیااس کی خوبصورتی اوراس میں موجود اشیاء کو دیکھ کرمیری آنکھیں چندھیانے لگیں،ایسالگتاتھاکہ میری عقل زائل ہو جائے گی۔میں نے وہاں عمدہ درخت دیکھے جن پر سونے چاندی کے برتن تھے۔ اُن میں طرح طرح کے شربت بھرے ہوئے تھے۔پھرمیں نے چندنوجوان لڑکیاں دیکھیں جنہوں نے چاندی کاباریک وخوبصورت لباس پہناہواتھا۔ان کا حسن دیکھ کرمجھے اپنی بینائی ضائع ہونے کاخوف ہونے لگا۔ جن لوگوں کواس محل میں داخل ہونے سے روک دیاگیاتھا،انہوں نے کہا: ''ہماراکیاقصورہے جوہمیں ان نعمتوں سے روک دیا گیا ہے؟ ہمیں ان چیزوں کے دیکھنے سے کیوں منع کیاگیاہے؟''وہ اسی طرح آوازیں بلندکر رہے تھے کہ یکایک ایک بہت بڑاتخت نمودارہوا۔تمام دوشیزائیں اس پربیٹھ گئیں، ان کے جسم خوشبوؤں سے مہک رہے تھے ،ان کے ہاتھوں میں خوشبو کی انگیٹھیاں تھیں۔جب وہ تخت فضامیں بلند ہواتوباہرکھڑے لوگوں کی چیخ وپکار مزید بلندہوگئی ۔ ان دوشیزاؤں میں ایک ایسی حسین وجمیل لڑکی بھی تھی جس کا حُسن باقی سب پرغالب تھا۔اچانک اس کے ہونٹوں کو حرکت ہوئی اوراس کی مسحورکُن آوازگونجنے لگی:
''اے لوگو!یہ تمام نعمتیں ان کے لئے ہیں جنہوں نے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں جہادکی وجہ سے اپنی بیویوں سے دوری اختیار کی، اپناوطن چھوڑا، اپنے پہلوؤں کوبستروں سے دوررکھا، راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں اپناخون بہاکرسخاوت کی ،مسلسل سفرکی وجہ سے یہ لوگ نہ تواپنی اولاد سے پیارکرسکے اورنہ ہی اپنی بیویوں سے لُطف اندوزہوسکے،انہوں نے فانی زندگی پرباقی کو ترجیح دی ۔ اے نمازیو!اے مجاہدو! تمہیں مُبَارَک ہو۔تمہارارب عَزَّوَجَلَّ تمہیں ایسی جگہ بٹھائے گاجہاں تمہاری آنکھیں ٹھندی ہوں گی، تمہارا خوف جاتارہے گا،وہاں امن ہی امن ہوگا۔''
پھراس نے دوسری کوکہا:''اے قرۃُ العین !اب تُوبول۔''اچانک ایک مسحورکُن اوردلکش آوازفضامیں بلندہوئی :