Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
304 - 412
حکایت نمبر425:         حضرتِ سیِّدُناذُوالْقَرْنَیْن علیہ رحمۃربّ ِالکونین اور دانا شخص
    حضرتِ سیِّدُناسعیدبن ابوہِلَال علیہ رحمۃ اللہ الجلال سے مروی ہے کہ''ایک مرتبہ پوری دُنیا کے بادشاہ حضرتِ سیِّدُنا ذُوالْقَرْنَیْن علیہ رحمۃربّ ِالکونین دورانِ سفر ایک شہرمیں داخل ہوئے توتمام شہر والے زیارت کے لئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف بڑھنے لگے۔ عو ر تیں، بچے،بوڑھے،جوان الغرض ہرشخص اپنے بادشاہ کے دیدارکے لئے کھِچا چلا آ رہا تھا۔لیکن ایک بوڑھاشخص اپنے کام میں مصروف تھا۔جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کے قریب سے گزرے اوراس نے آپ کی طرف توجہ نہ دی توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے متعجب ہوکرکہا: ''کیابات ہے سب لوگ مجھے دیکھنے کے لئے جمع ہوئے لیکن تم اپنے کام میں مگن رہے، تم نے ایسا کیوں کیا؟'' اس نے جواب دیا: ''اے ہمارے بادشاہ! جوحکومت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوحاصل ہے، وہ مجھے تعجب میں نہیں ڈالتی۔ کیونکہ میں نے دیکھاکہ ایک بادشاہ اور مسکین کاایک ساتھ انتقال ہواہم نے انہیں دفنادیا۔چنددن بعد ان کے کفن پھٹ گئے، پھر کچھ دِن بعد ان کاگوشت گل سڑگیا، مزید کچھ دن گزرنے پران کی ہڈیا ں جوڑوں سے علیحدہ ہو کر آپس میں مل گئیں۔اب بادشاہ اور مسکین میں پہچان نہیں ہوسکتی تھی کہ کون سی ہڈیاں بادشاہ کی ہیں اور کون سی مسکین کی۔لہٰذا اے ذُو الْقَرْنَیْن علیہ رحمۃربّ ِالکونین!مجھے آپ کی حکومت اور شان و شوکت تعجب میں نہیں ڈالتی ،اسی لئے میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف توجہ نہیں کی۔حضرتِ سیِّدُنا ذُوالْقَرْنَیْن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس بزرگ کی یہ باتیں سن کربہت حیران ہوئے اورجاتے ہوئے یہ حکم صادر فرمایاکہ آئندہ یہ حکیم و دانا شخص اس شہر پر حاکم ہو گا۔
حکایت نمبر426:             سب سے عقل مند شہزادہ
    حضرتِ سیِّدُناحَارِث بن محمدتَمِیْمِی علیہ رحمۃ اللہ القوی ایک قریشی بزرگ کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں: ''ایک مرتبہ شاہ سکندر ذوالْقَرْنَیْن علیہ رحمۃربّ ِالکونین ایک ایسے شہرسے گزرے جس پرسات بادشاہوں نے حکومت کی تھی اور اب سب انتقال کر چکے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے لوگوں سے پوچھا:''کیااس شہرپرحکومت کرنے والے بادشاہوں کی نسل میں سے کوئی ایک شخص بھی باقی ہے ؟''لوگوں نے کہا: '' ہا ں!ایک شخص باقی ہے ،لیکن اب وہ قبرستان میں رہتاہے۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے بلوایااورپوچھا:''کس چیزنے تجھے قبرستان میں ر ہنے پرمجبورکیا؟'' کہا:''عالی جاہ!میں نے ارادہ کیاکہ قبرستان جاؤں اور ہلاک ہونے والے بڑے بڑے بادشاہوں اوران کے فوت شدہ غلاموں کی ہڈیوں کوعلیحدہ علیحدہ کردوں تاکہ بادشاہوں کا غلاموں سے امتیاز ہوجائے۔ لیکن میں اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکاکیونکہ بادشاہوں اور غلاموں کی ہڈیاں ایک جیسی ہی ہیں۔''
Flag Counter