شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ حقوق ایسے ہیں جورات میں اداکئے جاتے ہیں دن میں کرنے سے وہ انہیں قبول نہیں فرماتا۔اسی طرح کچھ عمل دن کے ہیں جو رات میں کرنے سے قبول نہیں ہوتے۔ اے عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! بھاری پلڑے والے وہی لوگ ہیں جن کا پلڑ ا بروزِ قیامت بھاری ہوگا ۔اس روزجن کاپلڑاہلکارہا وہی لوگ ہلکے اعمال ومیزان والے ہیں ۔اورایسے لوگوں کی اتباع بالکل باطل ہے جن کے اعمال کاوزن کم ہے۔اورہلکا پلڑا وہی ہو گا جس میں باطل اشیاء ہوں گی۔ اے عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! سب سے پہلے میں تجھے تیرے بارے میں اور پھرلوگوں کے متعلق ڈراتاہوں۔بے شک وہ نظریں جما کر دیکھ رہے ہیں،ان کے سینے پھول چکے ہیں اور وہ پھسلنے والے ہیں۔تم ان لوگوں میں شامل ہونے سے بچنا،جب تک تم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہوگے لوگ تم سے ڈرتے رہیں گے۔ اے عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جہنمیوں کاذکرفرمایاتوان کے برے اعمال کے ساتھ فرمایا اور ان کے اچھے عمل رد کردیئے گئے۔میں نے جب بھی ان لوگوں کویادکیاتوڈراکہ کہیں میں بھی ان میں سے نہ ہو جاؤں۔ اور جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اہلِ جنت کاذکرفرمایاتوان کے اچھے اعمال کے ساتھ فرمایااوران کی برائیوں سے درگزرفرمایا۔ میں نے جب بھی ان لوگوں کو یاد کیا تو خوف زدہ ہواکہ کہیں ان میں شامل ہونے سے رہ نہ جاؤں۔اللہ تعالیٰ نے جہاں آیتِ رحمت بیان فرمائی وہاں آیتِ عدل بھی بیان فرمائی تاکہ مؤمن امیدوخوف کے درمیان رہے۔اے عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )!یہ میری تمہیں وصیت ہے اگراسے یاد رکھو گے تو موت سے زیادہ تمہیں کوئی چیزمحبوب نہ ہوگی اوروہ عنقریب آنے ہی والی ہے ۔اوراگرتم نے میری وصیت کو ضائع کردیا تو موت سے زیادہ نا پسندیدہ چیزتمہارے نزدیک کوئی نہ ہوگی اوراس سے چھٹکاراکسی صورت ممکن نہیں۔''
وَعَلَیْکَ السَّلَام
یہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُناابوبَکْرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری وصیت تھی ۔
؎ سایۂ مصطفی مایۂ اصطفٰی عزّونازِ خلافت پہ لاکھوں سلام
یعنی اس افضل الخلق بعدالرسل ثانی اثنینِ ہجرت پہ لاکھوں سلام
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)