Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
302 - 412
مسلم رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ حاضر ہوئے تو امیر المؤمنین علیہ رحمۃ اللہ المبین نے فرمایا:''اے مسلم!تمہارا بھلا ہو،اس شخص کے بارے میں تمہاری کیارائے ہے جس پراس کی برداشت سے زیادہ بوجھ ڈال دیاگیاہو۔ اگرایساشخص اس بوجھ (یعنی حکومت کی ذمہ داری )کوچھوڑ کر رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے خلوت نشین ہو جائے تو کیا اس پرکچھ حرج ہے؟''حضرتِ سیِّدُنامسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا:''اے امیر المؤمنین علیہ رحمۃ اللہ المبین ! امتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرئیے۔خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کوچھوڑ کرچلے گئے تویہ اپنی ہی تلواروں سے ایک دوسرے کوقتل کرڈالیں گے ۔''امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمربن عبدالعزیزعلیہ رحمۃ اللہ المجیدنے فرمایا : ''اے مسلم ! میں کیا کروں؟یہ خلافت کا بھاری بوجھ میری برداشت سے باہر ہے۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بار بار یہی کہتے رہے اور حضرتِ سیِّدُنا مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کوتسلی دیتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طبیعت سنبھل گئی۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ  عليہ وسلم)
حکایت نمبر424:     حضرت ابوبکرصد یق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخر ی و صیت
    حضرتِ سیِّدُناابوابراہیم اِسحاق بن ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے منقول ہے، میں نے اپنے داداحضرتِ سیِّدُنا ابوبَکْربن سالِم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ فرماتے سنا: ''جب خلیفۂ اول امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبَکْرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاوقتِ وصال قریب آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس طرح وصیت لکھوائی :

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

    یہ وہ عہدہے جوابوبکرصدیق نے اپنے آخری وقت میں کیا،یہ اس کا دنیاسے نکلنے کاآخری اورآخرت میں داخل ہونے کا پہلا وقت ہے ۔یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ کافربھی ایمان لے آتا،فاسق وفاجرمتقی بن جاتااورجھوٹاتصدیق کرنے لگتا ہے۔ میں اپنے بعد عمربن خطّاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخلیفہ مقرر کر کے جارہاہوں ۔اگروہ عدل وانصاف سے کام ليں تومیرا ان کے بارے میں یہی گمان ہے وہ میرے معیارکے مطابق ہوں گے۔ اوراگرظلم وزیادتی کریں تو ان کاعمل انہیں کے ساتھ ہے ، میں نے تو خیر ہی کاارادہ کیاہے اوراللہ عَلَّامُ الغیوب ( یعنی غیبوں کاجاننے والا)ہے ،مجھے غیب کاعلم نہیں۔اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:
 وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿227﴾٪
ترجمۂ کنزالایمان:اوراب جاناچاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے ۔(پ19، الشعراء: 227)

    پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرتِ سیِّدُناعمربن خطّاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبلاکرارشادفرمایا:''اے عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !بے
Flag Counter