''اے امیرالمومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! وہ دو سو ساٹھ(260) تھے،جب سب سامان جمع ہوگیا توکام کرنے والے نکلے تاکہ ایسی جگہ تلاش کریں جہاں شَدَّادکی جنت بنائی جاسکے کافی تلاش کے بعدوہ ایسے صحراء میں پہنچے جوٹیلوں اورپہاڑوں وغیرہ سے خالی تھا وہ کہنے لگے کہ یہی وہ جگہ ہے جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ بس پھرکیاتھا! کاریگراورمزدورجوق د ر جوق وہاں پہنچنے لگے جتنی جگہ درکارتھی اس کی حدمقررکی،چشمے کھودے ،گلی کُوچے بنائے ،نہروں کے لئے گڑھے کھود ے ان کی جڑوں میں خوشبودار سفید پتھر رکھے۔پھر عمارتوں اورستونوں کے لئے بنیادیں کھودی گئیں اوران میں بھی بہت قیمتی او ر مضبو ط پتھرلگائے گئے ۔اب زبرجد، یاقوت، سوناچاندی اورہیرے جوہرات منگوائے گئے۔کاریگر ستون بنانے لگے ، معمار سونے چاندی کی اینٹوں سے محلات تعمیر کرنے لگے ،دودھ اورخوشبودارپانی کی نہریں جاری کی گئیں۔اور اس طرح اس شہرکی تعمیرمکمل ہوئی۔
حضرتِ سیِّدُنا امیرِ مُعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: ''اے کَعْب! خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میراخیال ہے کہ ا نہیں اس شہرکی تعمیرمیں بہت عرصہ لگاہوگا؟''کہا:''جی ہاں!میں نے ''تورات'' میں پڑھاکہ یہ ساراکام تین سو(300)سال میں مکمل ہوا۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: ''شَدَّادبدبخت کی عمرکتنی تھی؟' ' فرمایا: '' نوسو(900)سال ۔'' فرمایا : ''اے ابواِسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ! آپ نے ہمیں عجیب وغریب خبردی ہے، اس بارے میں مزیدکچھ بتائیے ۔''فرمایا:''اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کانام ''اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَاد''رکھااس کے ستون زبرجدویاقوت کے تھے،اس شہرکے علاوہ پوری دنیامیں کوئی اور شہر ایسانہیں جویاقوت وزبرجد سے بنایا گیا ہو ۔ چنانچہ ،فرمانِ خداوندی ہے :