امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناامیرِمُعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ !اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پررحم فرمائے، اس کے متعلق ذرا تفصیل سے بتائیے۔''
فرمایا:''اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !عادکے دوبیٹے تھے، شدیداورشَدَّاد۔جب عاد کا انتقال ہواتودونوں بیٹوں نے سرکشی کی اورقہروغضب سے تمام شہروں پرزبردستی مسلط ہوگئے۔کچھ حکمران توڈرکران کی اطاعت پر مجبور ہوئے اوربقیہ سے جنگ وجدال کرکے اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔یہاں تک کہ تمام لوگ ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پرمجبو ر ہوگئے ۔ ان کے زمانے میں مشرق ومغرب میں کوئی ایسانہ تھاجس نے طَوعاًیاکَرھاََ(یعنی خوشدلی یامجبوری سے ) اُن کی حکمرانی قبول نہ کی ہو۔جب دونوں کی سلطنت خوب مضبوط ہو گئی اور ہرجگہ ان کی بادشاہت کے سِکّے بیٹھ گئے تو ''شدید ''مرگیا۔اب ''شَدَّاد''ا کیلا ہی پوری سلطنت کا بادشاہ تھا۔کسی کواس سے جنگ وجدل کرنے کی ہمت نہ تھی۔ شَدَّادکو سا بقہ کتب پڑھنے کابہت شوق تھا۔ان کتابوں میں جب بھی جنت اوراس میں موجود محلات، یاقوت، جواہرات اورباغات کاتذکرہ پڑ ھتا یا سنتا تو اس کاشریر نفس اسے اس بات پرابھارتا کہ تُوبھی ایسی جنت بنا سکتا ہے۔
جب اس بدبخت ونامراد کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی توسو خز ا نچیوں کو بلایااورہرخزانچی کوایک ایک ہزار مد د گا ر دے کر کہا: ''جا ؤ! اورروئے زمین کاسب سے بڑااورعمدہ جنگل تلاش کرو۔پھراس میں ایک ایسا شہر بناؤ جو سونے،چاندی، یاقو ت، زبرجد اور موتیوں سے مزین ہو۔اس کے نیچے زبرجدکے ستون اوپرمحلات اوربالاخانے ہوں،پھران کے اوپرمزیدبہترین وعمدہ کمرے ہوں ان کمروں کے اوپربھی بالاخانے ہوں ۔ محلات کے نیچے گلی کوچوں میں ہرقسم کے ایسے میوہ دار درخت ہوں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں ۔ کیونکہ میں نے سابقہ کتب میں جس جنت کے بارے میں پڑھااورسنا وہ ایسی ہی ہے۔اورمیں ایسی جنت دنیاہی میں بنانا چاہتا ہوں۔''شَدَّادملعون کی یہ بات سن کر خزانچیوں نے کہا:''آپ نے اس شہر کی جو صفات بیان کی ہیں اس کی تعمیرکے لئے اتنے سارے یاقوت،زبرجد،ہیرے جواہرات اورسوناچاندی کہاں سے لائیں گے ۔ ' ' کہا:''کیاتمہیں معلوم نہیں کہ اس وقت ساری دنیاپرمیری حکومت ہے ؟''انہوں نے کہا: ''کیوں نہیں! بے شک ایساہی ہے۔''کہا:''توپھرپوری دنیامیں پھیل جاؤ!زمین پر،سمندرمیں جہاں جہاں زبرجد،یاقوت اور ہیرے جواہرات کا خز ا نہ ہوسب لے لواورہرقوم پرایک ایسا فرد مقررکروجواپنی قوم کے تمام خزانے جمع کرلے۔ جتنا ہمیں مطلوب ہے اس سے کہیں زیادہ خزانہ دنیا میں موجود ہے ۔''یہ کہہ کر شَدَّادنے پوری دنیاکے بادشاہوں کوپیغام بھجوایاکہ وہ اپنے اپنے ملک کا خزانہ میرے شہرمیں بھجوادیں۔حکم پاتے ہی ساری دنیاکے بادشاہ دس سال تک شَدَّادکے شہرمیں اپنے اپنے ملک کا خزانہ جمع کراتے ر ہے ۔ جس میں سونا،چاندی ،یاقوت، زبرجد، ہیرے جواہرات ،الغرض ہرقسم کی زیب وزینت کاسامان تھا۔
حضرتِ سیِّدُناامیرِ مُعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:''اے کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ !ان بادشاہوں کی تعد ا دکتنی تھی؟' ' فرمایا: