Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
299 - 412
جائے۔ اب شدّادبڑے جاہ وجلال اور متکبر ا نہ وفاتحانہ اندازمیں بڑی شان وشوکت سے سپاہیوں کے جھر مٹ میں روانہ ہوا۔ جب وہ اس جنت سے صرف ایک دن اورایک رات کے فاصلے پررہ گیاتوخالقِ کائنا ت،مالکِ لَم یَزَلْ،قادرِمطلق خدائے بزگ وبرترعَزَّوَجَلَّ نے ان پرعذاب بھیجا،آسمان سے ایک چیخ سنائی دی شَدَّاد نامراداپنی بنائی ہوئی جنت کی ایک جھلک دیکھے بغیرہی اپنے تمام ہمراہیوں کے ساتھ ہلاک ہوگیا،سب لشکری تباہ وبربادہوگئے اور کوئی بھی اس شہرمیں داخل نہ ہوسکا۔اوراب قیامت تک بھی کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !یہ تھا''اِرَم''کاساراواقعہ۔ہاں !آپ کے زمانے میں ایک شخص اس میں داخل ہوگا،وہ اس کی تمام چیزیں دیکھے گا اورواپس آکربیان کریگا۔لیکن اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، کوئی اس کی بات ماننے کوتیارنہ ہوگا۔''

    یہ سن کرامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناامیرِمُعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے ابواِسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ !کیاآپ اس میں داخل ہونے والے شخص کی کچھ صفات بتاسکتے ہیں؟''فرمایا:''ہاں!وہ شخص سرخ وبھورا اورپست قدہوگااس کی آنکھیں نیلی ہوں گی اور اس کے ابرو پر ایک تِل ہوگا ۔وہ اپنے گمشدہ اونٹ کی تلاش میں اس صحرا میں جائے گاتواس پروہ شہرظاہرہوگا۔وہ اس میں داخل ہوکرکچھ چیزیں وہاں سے اُٹھا لائے گا۔''اس وقت حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن قِلَابَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیِّدُنا امیرِمُعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔حضرتِ سیِّدُناکَعْبُ الْاَ حْبَار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی طرف دیکھا تو فرمایا: ''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !یہی وہ شخص ہے جواس میں داخل ہواہے ، آپ اس سے وہ چیزیں پوچھ لیجئے جومیں نے آپ کو بتائیں۔'' حضرتِ سیِّدُنا امیرِمُعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے ابو ا ِسحا ق رضی اللہ تعالیٰ عنہ !یہ تومیرے خادموں میں سے ہے اورمیرے پاس ہی ہے۔''فرمایا: ''یاتویہ اس شہرمیں داخل ہوچکاہے یاعنقریب داخل ہوگا،بس یہی وہ شخص ہے ۔'' یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا امیرِ مُعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے ابواِسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ !اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہیں دوسرے علماء پر فضیلت دی ہے ،بے شک ! تمہیں اولین وآخرین کاعلم دیاگیاہے ۔''حضرتِ سیِّدُناکَعْبُ الْاَ حْبَار رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے فرمایا:''قسم ہے اس پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی جس کے قبضۂ قدرت میں کَعْب کی جان ہے!اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کوئی چیزپیدانہیں فرمائی مگرا س کی تفسیراپنے برگزیدہ رسول حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کوبتادی۔''بے شک قرآنِ کریم بہت بلند و عظیم اور وعید سنانے والاہے۔''