بانی کانام بتائے اوریہ بتائے کہ یہ کس قوم کا واقعہ ہے؟'' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! حضرتِ سیِّدُناسلیما ن بن داؤد علٰی نبینا وعلیہما الصلٰوۃ والسلام کی مثل کسی کو سلطنت عطانہیں کی گئی،اس طرح کاشہرتوان کے ملک میں بھی نہ تھا۔ '' بعض لو گو ں نے عرض کی:''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! اس زمانے میں پوری دُنیا میں اس واقعہ کے متعلق صحیح معلومات صرف حضرتِ سیِّدُناکَعْبُ الْا َ حْبَار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مناسب سمجھیں توانہیں بلوائیں اورحضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن قِلَابَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھپادیں، اگر واقعی یہ اس شہرمیں داخل ہوئے ہوں گے توحضرتِ سیِّدُنا کَعْبُ الْا َ حْبَار رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہراوراس میں داخل ہونے والے کے بارے میں ضرور بتائیں گے کیونکہ یہ ایساعظیم معاملہ ہے کہ اس شہرمیں داخل ہو کر اس کے اَسرار (یعنی رازوں) سے واقف ہونے والے کا ذِکر سابقہ کتب میں ضرورہوگا۔اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جواشیاء زمین پر پیدا فرمائیں ،جوواقعات وحادثات رونماہوئے اورمستقبل میں جوبھی عظیم واقعات ہوں گے وہ تمام کے تمام تورات میں مفصل بیان کر دئیے گئے۔ اور اس وقت حضرتِ سیِّدُنا کَعْبُ الْاَ حْبَار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابقہ کتب کے سب سے بڑے عالِم ہیں ۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وہ آپ کواس واقعہ کی خبرضروردیں گے۔''
امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناامیرِمُعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرتِ سیِّدُنا کَعْبُ الْاَ حْبَار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبلوا کر فر ما یا : ''اے ابواِسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں نے تمہیں ایک بڑے کام کے لئے بلایاہے ، اُمید ہے کہ تمہارے پاس اس کاعلم ضرور ہوگا۔'' آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ''اللہ عَزَّوَجَلَّ علیم وخبیر ہے،اس کے سامنے سب عاجزہیں۔ میراسارا علم اسی کی عطاسے ہے ،فرمائیے! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیاپوچھناچاہتے ہیں ؟'' فرمایا:''اے ابواِسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ !مجھے بتاؤکہ کیادنیامیں کسی ایسے شہر کے متعلق تمہیں کوئی خبرپہنچی ہے جوسونے چاندی کی اینٹوں سے بنایاگیاہو۔جس کے ستون زبرجداوریاقوت کے ہوں ۔ جس کے محلات اوربالاخانوں کوموتیوں سے مزین کیاگیاہو،جس میں باغات اورنہریں جاری ہوں اورجس کے راستے کشادہ ہوں ۔''
حضرتِ سیِّدُناکَعْبُ الْاَ حْبَار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ!قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!مجھے ظنِ غالب تھاکہ اس شہراوراس کے بنانے والے کے متعلق مجھ سے ضرورسوال کیا جائے گا۔ اس شہر کی جوصفات آپ نے بیان کیں اورجوکچھ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبتایا گیاوہ حق ہے۔اس کو''شَدَّاد بن عَاد'' نے بنایا اور اس کانام ''اِرم'' ہے ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ مجید میں اس طرح ارشادفرمایا: