Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
295 - 412
حکایت نمبر421:                شدَّ اد کی جنت
    حضرتِ سیِّدُناوَہْب بن مُنَبِّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے،''حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن قِلَابَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گمشدہ اونٹوں کی تلاش میں نکلے۔جب عدن کے صحرا میں پہنچے توایک عظیم الشان شہر ظاہرہواجس کے گردقلعہ بناہواتھااورقلعے کے اردگرد بہت سے خوبصورت محل تھے۔ وہ یہ سوچ کراس طرف گئے کہ کسی سے اپنے اونٹوں کے متعلق پوچھ لیں گے،لیکن وہاں کوئی نظر نہ آیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سواری سے اتر کر گلے میں تلوار لٹکائے قلعے میں داخل ہوئے تودوبڑے بڑے دروازے دیکھے جن پر سفید وسرخ قیمتی موتی جَڑے ہوئے تھے، ایسے مضبوط اور خوب صورت دروازے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ ویران صحرا میں عظیم ُ الشَّان خوب صورت شہر دیکھ کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت گھبر ا ئے۔ جب ایک دروازہ کھول کراندر داخل ہوئے تو اپنے آپ کوایک ایسے شہرمیں پایا جس میں بہت سے محلات تھے۔ ہر محل کے اوپرکمرے تھے جن کے اوپرسونے سے بنے ہوئے بہت سے کمرے تھے۔ان کی تعمیر میں سونا، چا ندی اورقیمتی جواہرات استعمال کئے گئے تھے۔ان مکانوں کی بلندی، شہرمیں تعمیر شدہ کمروں جتنی تھی۔ صحن میں جابجا قیمتی پتھر اور مشک و زعفران کی ڈَلیاں بکھری ہوئی تھیں۔

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہاں سے کچھ قیمتی موتی اورمشک وزعفران کی ڈلیاں اُٹھائیں ،لیکن دروازوں اورصحن میں نصب موتیوں اورجواہرات کوجدانہ کر سکے۔ پھر اپنی اونٹنی پرسوار ہوکر اس کے قدموں کے نشانات پرچلتے ہوئے واپس یمن پہنچے اور لوگوں کواس عجیب وغریب شہرکے متعلق بتاتے ہوئے وہاں سے لائی ہوئی چیزیں دکھائیں۔ طویل عرصہ گزرنے کی وجہ سے ان موتیوں کارنگ پیلا ہو چکا تھا ۔

     جب یہ واقعہ پورے ملک میں مشہورہوگیاتوامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناامیر مُعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنے پاس بُلاکرواقعہ دریافت کیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عجیب وغریب شہراوروہاں کی اشیاء کے متعلق سب کچھ بتا دیا۔ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا امیر مُعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ باتیں بڑی عجیب معلوم ہوئیں،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مُتعجب ہو کر پوچھا: '' تم نے جوباتیں بیان کیں ان کے سچ ہونے کے بارے میں،مَیں کیسے یقین کر لوں؟''عرض کی :''حضور! میں وہاں کے موتی جواہرات اپنے ساتھ لے آیا تھا، کچھ چیزیں اب بھی میرے پاس موجود ہیں، یہ کہہ کر آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ یاقوت پیش کئے جوعام یاقوتوں کی نسبت قدرے پیلے ہوچکے تھے ۔کچھ مشک کی ڈَلیاں پیش کیں جن میں خوشبونہ تھی ، لیکن جب انہیں توڑا گیا تو ان میں سے تیزخوشبونکلی جسے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سونگھااسی طرح زعفران کی خوشبوبھی سونگھی۔ اب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواس واقعہ کایقین ہوگیاتھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے پوچھا: ''ایسا کون ہے؟ جومجھے اس عجیب وغریب شہراوراس کے
Flag Counter