گئی۔سب کے سب غرق ہوگئے اورکشتی کے تختے پرعورت کے علاوہ کوئی باقی نہ بچا۔
وہ عیدکادن تھا،بادشاہ اپنی رعایاکے ساتھ ساحلِ سمندرپرآیاہواتھا،تمام لوگ خوشیاں منارہے تھے ،جب بادشاہ نے کشتی کوڈوبتے دیکھاتوفوراًتیراک سپاہیوں کوحکم دیا: '' جلدی سے کشتی والوں کی مددکو پہنچو۔''سپاہی گئے توانہیں اس نیک عورت کے علاوہ کوئی اورزندہ نہ ملا۔وہ اسے لے کربادشاہ کے پاس آئے ،بادشاہ نے حقیقتِ حال دریافت کرتے ہوئے نکاح کاپیغام دیا۔لیکن اس نے یہ کہہ کرانکارکردیا:'' میراقصّہ بڑاعجیب وغریب ہے ، میرے لئے نکاح کرناجائزنہیں ۔''بادشاہ نے جب یہ سناتواس کے لئے علیحدہ مکان بنوادیااوروہ اس میں رہنے لگی۔لیل و نہار(یعنی رات دن) گزرتے رہے،وقت کی گاڑی تیزی سے چلتی رہی۔ بادشاہ کوجب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آتاتو وہ اس پاکبازعورت سے مشورہ کرتا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے مشوروں میں ایسی برکت دی کہ ان پرعمل کرکے بادشاہ کو ہمیشہ کامیابی ہوتی ۔اب بادشاہ کے نزدیک یہ پاکبازعورت بہت معظم ہوگئی تھی وہ اسے بہت بابرکت سمجھنے لگا۔ جب بادشاہ کی موت کا وقت قریب آیاتواس نے اپنے وزیروں،مشیروں اوررعایاکوجمع کرکے کہا:''اے لوگو!تم نے مجھے کیساپایا؟''سب نے بیک زبان جواب دیاـ:''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کواچھی جزا عطافرمائے ،آپ ہمارے لئے رحیم باپ کی طرح ہیں ۔''بادشاہ نے کہا:''اے لوگو!توجہ سے میری بات سنو!تم نے محسوس کیاہوگاکہ ہماری نیک سیرت مہمان خاتون کے قابلِ قدرمشوروں کی بدولت ہمارے ملک کانظام بہت بہترہوگیاہے ۔میں نے اسے اپنے ہر معاملے میں بابرکت پایا۔میں تمہارے لئے ایک بہت اچھی تدبیرکرناچاہتاہوں۔''لوگوں نے تجسُّس بھرے اندازمیں کہا:''عالی جاہ!حکم فرمائیں آپ کیاچاہتے ہیں؟'' کہا: ''میں چاہتاہوں کہ اپنے بعداس نیک سیرت خاتون کوتم پرملکہ مقررکردوں ۔'' شفیق ورحیم بادشاہ کے حکم پر''لَبَّیْک '' کہتے ہوئے سب نے عرض کی :''عالی جاہ!جیساآپ چاہتے ہیں ،اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ویساہی ہوگا ۔'' چنانچہ، بادشاہ نے اس باحیا،نیک سیرت وصابرہ خاتون کوپورے ملک کی سلطنت عطاکردی اورخود دارِ فانی سے کوچ کرکے دارِ بقاکاراہی بن گیا۔
اس نے ملکہ بنتے ہی اعلان کردیاکہ پورے ملک کے لوگ بیعت کے لئے جمع ہوجائیں۔ حکمِ شاہی ملتے ہی ملک کے گوشے گوشے سے لوگ نئے بادشاہ کی بیعت کے لئے جمع ہوگئے۔ بیعت کاسلسلہ شروع ہوا۔جب اس کاشوہراوردیورآئے توحکم دیاکہ ان دونوں کو علیحدہ کھڑا کردو۔ پھروہ شخص آیاجسے پھانسی دی جارہی تھی (اورجس احسان فراموش نے اپنی اس محسنہ کوبیچ دیاتھا)ملکہ نے حکم دیاکہ اسے بھی ان دونوں کے ساتھ کھڑا کردو۔پھرنیک سیرت راہب اوراس کابدکردارسیاہ فام غلام آیاتوانہیں بھی لوگوں سے علیحدہ کر دیاگیا۔جب تمام لوگ بیعت کرچکے توملکہ نے ان پانچوں کواپنے پاس بلوایااوراپنے شوہرسے کہا:''کیاتم مجھے پہچانتے ہو؟'' اس نے کہا:'' خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! آپ ہماری ملکہ ہیں ۔'' کہا:''میں تمہاری بیوی ہوں ۔ سنو!تمہارے بدکرداروخائن بھائی نے میرے ساتھ کیسابراسلوک کیاتھا۔''یہ کہہ کرساراواقعہ اسے بتایااورکہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ خوب جانتاہے کہ تم سے جداہونے سے لے کر