Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
293 - 412
آج تک مجھے کسی مردنے نہیں چھوا۔میں آج بھی پاک دامن ومحفوظ ہوں۔''پھراس نے اپنے دیورکوبلاکرپھانسی کاحکم دے دیا۔ پھر راہب سے کہا:''اگرآپ کی کوئی حاجت ہوتوبتاؤ،میں وہی عورت ہوں جوتمہارے پاس زخمی حالت میں آئی تھی۔'' تمہارے بیٹے کو تمہارے اس ظالم وشہوت پرست سیاہ فام غلام نے ذبح کیاتھا۔''پھر غلام کوبلواکراسے بھی قتل کروادیا۔اب اس شخص کی باری تھی جسے پھانسی دی جارہی تھی اورملکہ نے اسے بچایاتھا۔ جب وہ آیاتواسے بھی قتل کردیا گیا اور اس کی لاش چوراہے پرلٹکادی گئی اوریوں وہ اپنے انجامِ بد کو پہنچ گیا۔ باحیا و پاک دامن خاتون نے ہرآن اپنی عزت کی حفاظت کی، احکامِ خدا وندی عزوجل کو پیشِ نظر رکھااور صبرواستقامت سے کام لیا۔آج اسے تاج وتخت اورعزت وعظمت کی دولت میسرتھی۔جب تک خالقِ کائنات عَزَّوَجَلَّ نے چاہاوہ بحسن وخوبی امورِ سلطنت انجام دیتی رہی پھر اس دارِفانی سے دارِبقاکی طرف کوچ کرگئی۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

    (میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس سبق آموزحکایت کے اندر عبرت کے بے شمارمدنی پھول ہیں۔ مثلاً:(۱)۔۔۔۔۔۔بغیرتحقیق کے کبھی کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں کرنی چاہے۔(۲)۔۔۔۔۔۔کبھی بھی غیرمحرم کے ساتھ تنہائی اختیار نہیں کرنی چاہے اور دَیور تو موت ہے۔(۳)۔۔۔۔۔۔نیک لوگ مال و دولت دے کربھی دوسروں کومصیبتوں اورآفتوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (۴)۔۔۔۔۔۔دولت کاحریص اپنے محسنوں کوبھول جاتاہے اور اُن کے ساتھ ایساسلوک کر گزر تا ہے جوکسی طرح بھی روا وجائز نہیں۔ (۵)۔۔۔۔۔۔بلاتحقیق کسی پرکوئی حکم نہیں لگاناچاہے۔(۶)۔۔۔۔۔۔شہوت پرستی گناہوں کے سمندرمیں غرق کردیتی ہے اور اس میں ڈوب کرانسان جہنم کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔ (۷)۔۔۔۔۔۔انسان کیسی ہی حالت سے دوچارہوپھر بھی احکامِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کی پابندی کرے اور اپنی عزت و ایمان کوکسی قیمت پرنہ چھوڑے۔(۸)۔۔۔۔۔۔بندہ مصیبتوں،ظلم وستم کی آندھیوں اورغم وحزن کی دشوار گزار گھاٹیوں سے گزرکرایک نہ ایک دن خوشیوں اورعزتوں کے گلشن میں ضرورپہنچتاہے۔(۹)۔۔۔۔۔۔انسان کواس کے برے اعمال کا برا اوراچھے اعمال کااچھاصلہ ضرورملتاہے۔جوہرحال میں اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے احکام کی پابندی کرتا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا،نصرتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ ہروقت اس کے ساتھ ہوتی ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں نیک امور پر استقامت عطافرمائے۔(۱۰)۔۔۔۔۔۔اپنی عزت وعصمت کی ہمیشہ حفاظت کرنی چاہے۔ کسی بھی حالت میں دولتِ عزت کی چادر داغ دارنہیں ہونی چاہے کیونکہ ایمان کے بعد عز ت ہی سب سے بڑی دولت ہے۔سب کچھ چھوٹے توچھوٹ جائے لیکن ایمان وعزت ہاتھ سے نہ جانے پائے ورنہ دونوں جہاں کی بربادی ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ایسی مدنی سوچ عطافرمائے کہ ہم بھی ہرحال میں حکمِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ اورسنتِ نبوی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پیروی کریں اورگناہوں سے نفرت کرتے رہیں۔)

(آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)