قریب سے گزری تو دیکھا کہ مجمع لگاہواہے اور ایک شخص کو پھانسی دینے کے لئے لایا جارہا ہے،بستی کا سردار بھی وہیں موجود تھا ۔ عورت سردار کے پاس گئی اور کہا:'' کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم مجھ سے پچاس دینار لے لو اور اس شخص کو آزاد کردو۔''سردار نے کہا: ''لاؤ! رقم میرے حوالے کرو۔'' عورت نے پچاس دینار دیئے توسردار نے قیدی کورِہا کردیا۔وہ قیدی اس پاکباز صابرہ خاتون کے پاس آیا اور کہا:''میری جان بچاکر تو نے جو احسان کیا ہے آج تک کسی نے مجھ پرایسا احسان نہیں کیا۔ اب میں تیری خدمت کروں گا یہاں تک کہ موت ہمارے درمیان جدائی کردے۔''
چنانچہ، وہ شخص اس عورت کو لے کر ساحلِ سمندر پر پہنچا، کشتی چلنے ہی کو تھی دونوں کشتی میں سوار ہوگئے۔ عورت کا حسن وجمال دیکھ کر سارے مسافر حیران رہ گئے ۔ وہ عورتوں والے حصے میں بیٹھ گئی۔ لوگوں نے قیدی سے کہا:'' یہ حسین و جمیل عورت کون ہے ؟ '' اس بدبخت نے کہا: ''یہ میری زر خرید لونڈی ہے۔''کشتی میں موجود ایک شخص جو اس عورت کے حسن میں گرفتار ہوچکا تھا، اس نے کہا:'' کیا تم اپنی لونڈی فروخت کرو گے؟'' کہا : ''میں اسے بیچنا نہیں چاہتا کیونکہ وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتی ہے، جب اسے معلوم ہوگا کہ میں نے اسے بیچ دیا ہے تو اسے میری طرف سے بہت تکلیف پہنچے گی، اس نے مجھ سے عہد لیا ہے کہ میں اسے کبھی نہ بیچوں گا۔'' مسافر نے کہا:'' تو مجھ سے منہ مانگی قیمت لے لے اور خاموشی سے چلا جا! تجھے کیا ضرورت ہے کہ تو اسے بتائے ۔'' لالچی واحسان فراموش، دھوکے بازقیدی نے مال کے وبال میں پھنس کر مسافر سے بہت سارا مال ليا اور کشتی سے اُتر گیا۔ مسافر نے اس خرید وفروخت پر تمام مسافروں کو گواہ بنالیا۔ عورت چونکہ مستورات والے حصے میں تھی اس لئے اس معاملے سے بے خبر رہی۔ جب مسافر کو یقین ہوگیا کہ اس کامالک جاچکا ہے اب واپس نہیں آسکتا تو وہ عورت کے پاس آیا اور کہا:'' آج سے تم میری ملکیت میں ہو، میں نے تمہیں خرید لیا ہے۔''
عورت نے کہا: '' خدا عَزَّوَجَلَّ کا خوف کر! تو نے مجھے کیسے خرید لیا؟ جبکہ میں آزاد ہوں اورکسی کی ملکیت میں نہیں۔'' مسافر نے کہا:'' ان باتوں کو چھوڑ،تیرا مالک تجھے بیچ کر یہاں سے جاچکا ہے۔ اب نہ تو اپنے مالک کے پا س جا سکتی ہے نہ ہی وہ رقم واپس کرسکتی ہے جو تیرے مالک نے مجھ سے لی ہے ،میں نے مالِ کثیر دے کر تجھے خریدا ہے اورتمام مسافر اس پرگواہ ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا تو ان سے پوچھ لے۔ سب مسافروں نے کہا:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی دشمن!اس نے واقعی تجھے خریداہے ،ہم سب اس پرگواہ ہیں۔''نیک وپاکباز،جرأت مندعورت نے کہا:''تمہاراناس ہو! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو۔خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں آزاد ہوں، آج تک کبھی کوئی میرامالک نہیں بنا۔میں کسی کی لونڈی نہیں کہ مجھے کوئی بیچے۔تم اس معاملہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو۔لوگوں نے اس مسافر سے کہا: ''یہ اس طرح باز نہیں آئے گی، اس کے ساتھ جوسلوک کرناہے کرڈال، خودہی مان جائے گی۔''یہ سن کرمسافراس کی طرف بڑھا۔ جب اس مظلومہ کو اپنی عزت کاخطرہ محسوس ہواتواس نے کشتی والوں کے لئے بددعا کی ۔فوراً کشتی ان سب کولے کرڈوب