وہاں سے چلا گیا۔ خداعَزَّوَجَلَّ کی قدرت کہ شدید زخمی ہوجانے کے باوجودنیک خاتون ابھی زندہ تھی ،وہ گرتی پڑتی ایک راہب کے عبادت خانے کے قریب پہنچی، اس کی درد بھری آہیں سن کر راہب نے اپنے غلام کو بلایا،دونوں اسے اُٹھاکر عبادت خانے میں لے آئے۔ نیک نیت راہب بڑی توجہ سے اس کا علاج کرتا رہا، جس کی وجہ سے وہ بہت جلد صحت یاب ہوگئی۔ راہب کی زوجہ فوت ہوگئی تھی اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا۔ راہب نے عورت سے کہا:'' اب تم ٹھیک ہوگئی ہو اگر جانا چاہو تو بخوشی چلی جاؤ، اگر یہاں رہنا چاہو تو تمہاری مرضی ۔''
عورت نے کہا:'' میں یہیں رہ کرآپ کی خدمت میں زندگی گزارناچاہتی ہوں۔'' راہب نے اپنا بچہ اس کے حوالے کر دیا۔ نیک و پارساخاتون بڑی دل جمعی سے اس کی پرورش کرنے لگی۔ راہب کا سیاہ فام غلام عورت کے حسن کو دیکھ کر بدنیت ہوگیا اور موقع کی تلاش میں رہنے لگا۔ا یک دن اس نے اپنی نیتِ بد کا اظہار کرتے ہوئے اس پاکبازو باحیا عورت کو بدکاری کی طرف بلایا اور کہا: '' بخدا! یا تو میری بات مان لے اور میری خواہش پوری کر دے ورنہ میں تجھے ہلاک کردوں گا۔'' خوفِ خدا رکھنے والی نیک عورت نے کہا :' میں ہر گز ہر گز تیری بات نہیں مانوں گی تجھے جو کرنا ہے کرلے۔'' بدکار سیاہ فام اپنی ناکامی پر ماتم کرتا ہوا دل میں بغض لئے وہاں سے چلا گیا۔ رات کی سیاہی نے جب ہر شے کو ڈھانپ لیا توسیاہ فام غلام عورت کے پاس آیا ، بچہ اس کی گود میں رو رہا تھا اور وہ اسے بہلا رہی تھی ۔ ظالم و شہوت پرست سیاہ فام غلام نے تیز چھری سے بچے کا گلا کاٹ دیا،چند ہی لمحوں میں اس نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی ۔ غلام دوڑکرراہب کے پاس گیا اور کہا: '' حضور! کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی اس مہمان خبیث عورت نے کیا کارنامہ کیا ہے ؟ کیا آپ کو معلوم ہے اس نے آپ کے ننھے منے بچے کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے ؟آپ نے اس کے ساتھ احسان کیا لیکن اس نے آپ کے بچے کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے۔ ہائے !ہائے! کیسی ظالم عورت ہے۔'' راہب غلام کی باتیں سن کر بہت متعجب ہوا اور پریشان ہو کر کہا:'' تیرا ناس ہو! بتا تو سہی اس نے میرے بچے کے ساتھ کیا کیا ہے؟'' کہا: '' حضور! اس نے آپ کے لاڈلے بچے کو ذبح کر ڈالا ہے، اگر یقین نہیں آتا تو چل کر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔'' راہب دوڑتاہوا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ واقعی بچے کا گلا کٹا ہواہے اوراس کا جسم خون میں لَت پَت ہے ۔ راہب نے عورت سے پوچھا: '' میرے بچے کو کیا ہوا ؟'' کہا:'' میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا بلکہ آپ کے غلام نے مجھے گناہ کی دعوت دی جب میں نے انکار کیا توا س نے بچے کوقتل کردیا۔میں اس معاملے میں بالکل بے قصور ہوں۔ ''
راہب نے کہا:'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! تو نے اپنے معاملے میں مجھے شک میں مبتلا کردیا ہے، اب میں نہیں چاہتا کہ تو میرے ساتھ رہے۔ یہ پچاس(50) دینار لے جا اور جہاں تیرا جی چاہے چلی جا ،یہ دینار تیری ضروریات میں کا م آئیں گے۔'' عورت نے پچاس دینار لئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے امید لگائے غیرمتعین منزل کی طرف چل دی۔ایک بستی کے