Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
289 - 412
دینار دے رہا ہوں ،جاؤ! یہ تمہیں مُبَارَک ہوں۔'' میں پچاس ہزار دینار لے کر دربار سے چلا آیا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہ نابینانوجوان آگیا۔ میں نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ بڑا جَوَادوکریم ہے اس نے اپنے فضل و کرم کی خوب بارش برسائی ہے۔ یہ لو!یہ دوہزار دینارلے جاؤ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے۔'' نوجوان نے وہ رقم لی اور مجھے دعائیں دیتا ہوارخصت ہوگیا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر419:                پاکدامن ملکہ
    حضرتِ سیِّدُناجَعْفَر بن محمد صادِق علیہ رحمۃ اللہ الرازق سے منقول ہے،بنی اسرائیل کا ایک شخص سفر پر جانے لگا تو اپنے بھائی سے عہد لیا کہ ''تم میری بیوی کی خدمت اور دیکھ بھال کرو گے۔'' اس نے اقرارکر لیا اور یقین دہانی کراتے ہوئے کہا :''بھائی جان! آپ بے فکر ہو کر سفر پر جائیں، آپ کو کسی قسم کی کوئی شکایت نہ ہوگی ،میں ہر طرح سے آپ کی زوجہ کا خیال رکھوں گا۔'' چنانچہ، وہ مطمئن ہو کرسفر پر روانہ ہوگیا۔ اس نے اپنی بھابھی کے ساتھ رہنا شروع کردیا۔ عورت کے حسن و جمال نے اس کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ ڈال دیا،وہ اپنی بھابھی پر عاشق ہوگیا اور ا پنے بھائی سے کئے ہوئے عہد کو توڑ کر اس کی بیوی کو اپنے ارادے سے آگاہ کرتے ہوئے گناہ کی دعوت دی ۔ عورت پاکدامن و باحیا تھی، اس نے انکار کردیا۔جب بدبخت و خائن دیْوَر اپنی کوشش میں ناکام ہونے لگا تو دھمکی دیتے ہوئے کہا: ''اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تمہیں ہلاک کردوں گا۔'' عور ت نے کہا: ''خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں تمہاری گناہ بھری دعوت ہر گز ہر گز قبول نہ کروں گی، تم جو چاہے کرلو۔''پاکباز عورت کے ایمان افروزاور جراءَ ت مندانہ انداز کو دیکھ کروہ خاموش ہوگیا۔ جب اس کا بھائی سفر سے واپس آیا توکہا:'' میرے بھائی! جانتے ہو! تمہاری بیوی نے تمہارے جانے کے بعد کیا گُل کھلایا ؟سنو!وہ مجھے بدکاری کی دعوت دیاکرتی تھی، توبہ توبہ، و ہ تو بڑی بد چلن ہے ۔اس نے تمہارے جانے کے بعدنہ جانے کیا کیا برے کام کئے ہیں۔ ''

    بھائی کی یہ باتیں سن کر اسے بہت غصہ آیا اس نے کہا:'' جانتے ہو! تم کیا کہہ رہے ہو؟'' کہا:'' بھائی جان ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں بالکل سچ کہہ رہاہوں۔ میں نے حقیقت واضح کردی ہے، ا ب تمہاری مرضی۔'' بھائی کی باتیں سُن کر اس کے دل میں یہ بات جم گئی کہ'' واقعی میری بیوی نے خيانت کی ہے۔ ''غم و غصے کی وجہ سے اس نے اپنی بیوی سے بات چیت بالکل بند کردی ۔ بالآخر ایک رات موقع پا کر اپنی پاکباز بیوی کو تلوار کے پے درپے وار کرکے شدید زخمی کردیا۔ جب یقین ہوگیا کہ یہ مرچکی ہے تو
Flag Counter