کوئی توجہ نہ دی ، کوڑا دہلیز پر پھینک کر میرے پاس آئے اور فرمایا:'' اے ابو حَفْص! ہاں، تو میں تم سے یہ پوچھ رہا تھا کہ اس غلام کے بارے میں تم کیا کہتے ہو جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر شادی کرلے۔ قاضی صاحب اس طرح گفتگو کررہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔نصرانی مار کھا کر عجمی گھوڑے پر سوار ہونے لگا تو گھوڑا بدکنے لگا اب وہاں اس کا کوئی رفیق بھی نہ تھا جو اسے سوار کراتا۔ نصرانی غصے میں آکر گھوڑے کو مارنے لگا توقاضی صاحب نے فرمایا:'' اے نصرانی! اس بے زبان جانور پر نرمی کر ! تیری خرابی ہو،یہ اپنے رب اللہ عَزَّوَجَلَّ کا تجھ سے زیادہ مطیع و فرمانبردار ہے۔ ''
نصرانی چلا گیا تو قاضی صاحب نے فرمایا:'' آؤ! ہم اپنے مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں۔بتاؤ! ایسے غلام کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟''میں نے کہا:''مجھے اس بارے میں معلوم نہیں ۔ خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم! آج آپ نے بہت بڑی جرأت کی ہے۔ شاید! عنقریب آپ کو اس کی بہت کَڑی سزا ملے ۔'' فرمایا:'' اے ابوحَفْص! تُو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کی تعظم کر اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے عزت و بلندی عطا فرمائے گا۔ آؤ ہم اپنے مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں۔'' پھر قاضی صاحب مجھے اس غلام والے مسئلے کے متعلق بتانے لگے۔ نصرانی (شاہی ملازم )مار کھا کر سیدھا امیر موسیٰ بن عیسیٰ کے پاس گیا۔ امیر نے جب اسے زخمی حالت میں دیکھا تو پوچھا:''یہ تجھے کیا ہوا؟'' نصرانی نے کہا: ''قاضی شَرِیک نے مار مار کر میری یہ حالت کی ہے۔'' پھر اس نے سارا واقعہ بیان کر دیا۔ امیر موسیٰ بن عیسیٰ نے کہا:'' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں قاضی شَرِیک کے معاملے میں ہر گز دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ یہ سُن کر نصرانی اپنا سامنہ لے کر بغداد چلا گیا اور پھر واپس نہ آيا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)