Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
284 - 412
جانے کا ارادہ رکھتا تھا ،انتہائی قیمتی جُبّہ پہنے، ایک طاقتور عجمی گھوڑے پر بڑے شاہانہ انداز سے بیٹھا ہواتھا۔ قاضی نے دیکھا کہ ایک پریشان حال شخص ہاتھ جوڑے بڑے درد مندانہ انداز میں پکاررہا ہے: ''ہائے! کوئی میری مدد کرے ، میں اولاً اللہ عَزَّوَجَلَّ اور پھر قاضی سے انصاف طلب کرتا ہوں۔'' اس سائل کا جسم کوڑوں کی مارسے چھلنی تھا۔ نصرانی( شاہی ملازم) نے قاضی کو سلام کیا قاضی صاحب نے اسے اپنے پاس بٹھالیا۔

     زخمی سائل نے عرض کی:''میں پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پھر قاضی صاحب کی پناہ چاہتاہوں۔قاضی صاحب ! میں کپڑے بُنتا ہوں اور میرے جیسے مزدور ماہانہ سو درہم اجرت لیتے ہیں۔ اس نصرانی نے مجھے تقریباً چار ماہ سے قید کررکھا ہے میں سارا دن کام کرتا ہوں لیکن اجرت میں اتنی کم رقم ملتی ہے کہ بمشکل کھانے کی اشیاء خرید سکتا ہوں۔ میرے گھر والے فقرو فاقہ اور تنگدستی میں مبتلا ہیں، آج موقع پا کر میں قید سے بھاگ آیا تو راستے میں اس نصرانی نے مجھے پکڑ لیا اور اتنا مارا کہ میری ساری پیٹھ لہولہان کردی۔ خدارا !مجھ پر رحم کیجئے۔''مظلوم سائل کی یہ درد بھری فریاد سُن کر قاضی شَرِیک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نصرانی کو ڈانٹتے ہوئے کہا: '' اے نصرانی!اُٹھ اوراپنے مقابل کے سامنے کھڑا ہوجا۔''

    نصرانی نے کہا:'' قاضی صاحب ! اللہ تعالیٰ آپ کا بھلا کرے، یہ''خَیْزُرَان''کے خادموں میں سے ہے اور بھاگ آیا ہے، اسے قید کرلیجئے ۔'' قاضی شَرِیک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' تیرا ناس ہو! جو تجھ سے کہا گیا ہے اس پر عمل کراور سائل کے برابر کھڑا ہو جا۔'' نصرانی ملازم بادِلِ ناخواستہ سائل کے برابر جا کھڑا ہوا۔ قاضی صاحب نے فرمایا:'' اس فریادی کی پیٹھ پر یہ زخم کے نشانات کیسے ہیں ؟'' کہا: '' قاضی صاحب!اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے میں نے اپنے ہاتھوں سے اسے کوڑے مارے ہیں،ابھی تو اس کو کم سزا ملی ہے یہ تو اس سے بھی زیادہ کا حق دار ہے، آپ جلدی سے اسے جیل بھجوادیجئے۔''

    یہ سُن کر قاضی شَرِیک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کمرے میں داخل ہوئے، واپسی میں ان کے ہاتھ میں ایک زبردست قسم کا سخَت کوڑا تھا۔آپ نے نصرانی کی پیٹھ سے کپڑا ہٹاکر خوب کوڑے لگائے۔ پھر اس مظلوم فریادی سے کہا :''تم بے خوف و خطر اپنے اہل و عیال کے پاس چلے جاؤ۔'' وہ دعائیں دیتا ہو ا وہاں سے چلاگیا۔ قاضی صاحب نے پھر کوڑا بلند کیا اور پے درپے کئی کوڑے نصرانی کی پیٹھ پر لگاتے ہوئے کہا :'' آئندہ تجھے کسی پر ظلم کرنے کی جرأت نہ ہوگی۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! توآئندہ کبھی بھی کسی مسلمان پر ظلم نہیں کریگا۔ تیری پیٹھ کے زخم تجھے اس بُری حرکت سے باز رکھیں گے۔'' اس کے رفقاء نے جب اس کی دُرْگَتْ بنتی دیکھی تو اسے چھڑانے کے لئے آگے بڑھے۔ قاضی صاحب نے بآوازِ بلند فرمایا:'' اگر قبیلے کے نوجوان یہاں موجود ہوں تو جلدی سے آئیں اور اس کے دوستوں کو جیل میں ڈال دیں۔'' یہ سُن کر سارے حمایتی بھاگ گئے اور نصرانی اکیلا رہ گیا۔ قاضی صاحب نے اسے خوب سزا دی ۔وہ روتا ہواکہہ رہا تھا، عنقریب تم اپنا انجام دیکھ لو گے۔ قاضی صاحب نے اس کی دھمکی کی طرف