Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
283 - 412
کی اولاد کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر! بے شک تو انہی کی وجہ سے اس مجلس میں بیٹھا ہے۔ اے خلیفہ ! سرحدوالوں کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر! بے شک یہ مسلمانوں کے قلعے ہیں۔ان کے معاملات حل کیا کر! بے شک تجھ اکیلے سے ان سب کے متعلق پوچھ گَچھ ہوگی۔ جو سائل تیرے دروازے پر آئیں ان سے غفلت نہ بَرْتنا، ان کے معاملے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے خوب ڈر اور اپنے دروازے سائلین کے لئے بند مت کر۔'' نیکی کی دعوت سُن کر خلیفہ نے کہا:'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جو حکم فرمایا میں اس پر ضرور عمل کروں گا۔'' جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ واپس جانے لگے تو خلیفہ نے آپ کا دامن تھام کر کہا:'' اے ابو محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! آپ نے دوسروں کی حاجات کے متعلق سوال کیا ہے ہم انہیں پورا کریں گے۔ آپ اپنی بھی کسی حاجت کے متعلق ارشاد فرمائیں۔''یہ سن کرآ پ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ فرماتے ہوئے دربارِ شاہی سے واپس تشریف لے گئے :'' اے خلیفہ! مجھے مخلوق سے کوئی حاجت نہیں۔'' خلیفہ نے درباریوں سے مخاطب ہو کر کہا:'' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ ہے حقیقی عزت ،یہ ہے حقیقی بادشاہت ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

؎ آفریں اہلِ محبت کے دلوں کو اے دوست! 		ایک کوزے میں لیے بیٹھے ہیں دریا تیرا

اتنی نسبت بھی مجھے دونوں جہاں میں بس ہے 		تو مرا مالک و مولیٰ ہے میں بندہ تیرا
حکایت نمبر 415:         قاضی شَرِیک کی جرأت وبہادری
     حضرت عمر بن ہَیَّاج بن سعید سے منقول ہے: میں حضرتِ سیِّدُناقاضی شَرِیک علیہ رحمۃ اللہ الرفیق کے قریبی دوستوں میں سے تھا۔ ا یک دن صبح سویرے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میرے پاس اس حالت میں تشریف لائے کہ چادر اوڑھی ہوئی تھی اور چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا جس کے نیچے قمیص نہ تھی۔ میں نے کہا:''کیا وجہ ہے کہ آج آپ نے مجلس قضاء منعقد نہیں فرمائی؟''فرمایا: ''کل میں نے اپنے کپڑے دھوئے تھے جو ابھی تک سوکھے نہیں، میں ان کے خشک ہونے کا انتظار کررہا ہوں۔ تم یہاں بیٹھو، ہم کچھ دینی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔'' حکم پا کر میں بیٹھ گیا تو ہمارے درمیان غلام کے نکاح سے متعلق گفتگو ہونے لگی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے اس کا کیا حکم ہے ؟ کیا اس بارے میں تمہیں کچھ معلومات ہیں۔'' ابھی سلسلۂ کلام جاری تھا کہ''خَیْزُرَان''کی طرف سے مقرر ایک نصرانی ( شاہی ملازم کوفہ میں جس کا ہر حکم مانا جاتا تھا اور موسیٰ بن عیسیٰ کو بھی اس کی ہر بات ماننے کا حکم دیا گیا تھا) ہمارے پاس آیا اس کے ساتھ شاہی سپاہی اور دوسرے بہت سے لوگ تھے۔ وہ چراگاہ کی طرف
Flag Counter