| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
ہوتی ہے۔ جب بھی ان کا کوئی امتی پریشان ومصیبت زدہ ہوتا ہے تو مشکل کشائی فرما کر اپنے اس غلام کا دل خوش کر دیتے ہیں۔
جس طرح حیاتِ ظاہری میں وہ نورِ مُجَسَّم اپنے نور سے عاصیوں کے سیاہ دلوں کو نور بار کیا کرتے تھے ، اسی طرح وصال ظاہری کے بعد بھی ان کے لطف و کرم کا بادل سوکھے اورمرجھائے ہوئے غمگین دلوں کوپُربہار کررہا ہے۔ ان کا جودو کرم ہم پر جاری وساری ہے۔ جو امتی اس دربارِ گُہربار میں اپنا حالِ دل سناتاہے اس کی پریشانیاں حل ہو جاتی ہیں اور اس پر نعمتوں کی خوب برسات ہوتی ہے۔ بلکہ و ہ نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تو ایسے رحیم وکریم ہیں کہ منگتوں کو مانگنے سے قبل ہی عطا فرما دیتے ہیں۔
؎ کبھی ایسا نہ ہوا ان کے کرم کے صدقے ہاتھ کے پھیلنے سے پہلے نہ بھیک آئی ہو !
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیشہ ہماری نسبت سلامت رکھے ۔اپنی دائمی رضا عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا پڑوس عطا فرمائے ۔)( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)حکایت نمبر 407: عارِفین کی شان
حضرتِ سیِّدُنا محمد بن عبداللہ زَرَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد کا بیان ہے: میں نے حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے سُنا:''بے شک اللہ ربُّ العزَّت کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ جنہوں نے پہلے خطا کے درخت لگائے جن کی جڑیں دلوں میں قائم ہوگئیں پھر توبہ کے آنسوؤں سے انہیں سیراب کیا تو ان کوندامت و پریشانی اور غم کے پھل حاصل ہوئے ۔ وہ لوگ بغیر جنون کے دیوانے ہوگئے۔ نیکی کے معاملے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا۔ نہ کسی کو دھوکہ دیا نہ ہی انہیں گمراہی و دھوکے کا سامان کرنا پڑا۔ بے شک ان میں ایسے فُصَحاء، بُلَغاء اور خوش بخت لوگ بھی ہیں جو اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی معرفت و محبت رکھتے اور احکامِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کو پہچانتے ہیں۔ انہوں نے اخلاص کے خالص جام پئے ، بلاؤں اور مصیبتوں پر صبر کیا یہاں تک کہ اپنے خدائے قدو س کی عظمت و بزرگی کے بحرِناپیدا کنار کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہوکر جبروت کے پردوں کے گرد گھومنے لگے۔ انہوں نے ندامت و خجالت(یعنی شرمندگی) کے سائبان تلے اپنی خطاؤں کے صحيفے پڑھے اور اپنے اوپر خوف اورگریہ وزاری کو لازم کر لیا۔
جب وَرَعْ (یعنی تقویٰ) کی سیڑھی کے ذریعے مقامِ زہد تک پہنچ گئے توپھر دُنیا کو ترک کردینے کی کڑواہٹ بھی انہیں شیریں محسوس ہونے لگی۔ کُھردرے لباس اور بستروں کو انہوں نے نرم محسو س کیا یہاں تک کہ وہ سلامتی اور نجات کی رسی کو تھام کر کامیاب ہوگئے۔ ان کی روحیں عالَم بالا کی سیر کرنے لگیں تو وہاں انہوں نے نعمتوں والے باغات کو اپنا مقام پایا۔ وہاں انہوں نے