میں اس حال میں بیدار ہواکہ تم سے واقف نہ تھا لیکن تمہارا نام اچھی طرح یاد کرلیا تھا تاکہ صبح تمہارے متعلق معلومات کرواسکوں،میں دوبارہ سو گیا۔ خواب میں پھر حضورِ انورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لائے اور حکم فرمایا: '' ابوحَسَّان زِیَادِی کی مدد کرو۔'' میں گھبرا کر بیدار ہواکچھ دیربعد دوبارہ آنکھ لگ گئی۔ اس مرتبہ پھر شفیعِ روزِ شمار،بِاذنِ پروردگار دوعالم کے مالک و مختار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم خواب میں تشریف لائے اور فرمایا:'' جاؤ اور ابوحَسَّان زِیَادِی کی مدد کرو۔'' اس کے بعد میں دوبارہ نہیں سویا اور ابھی تک جاگ رہا ہوں۔ میں نے رات ہی سے تمہاری تلاش میں خدَّام بھیج رکھے ہیں۔ پھر خلیفہ مامون الرشید نے دس ہزار(10,000) درہم دیتے ہوئے کہا :''یہ رقم اس خُرَاسَانیِ کو دے دینا۔ مزید دس ہزار درہم دیتے ہوئے کہا: ''ان کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرلینا۔مزید تیس ہزار(30,000) درہم دیتے ہوئے کہا: ''اس رقم سے اپنے بچوں کی شادی وغیرہ کے لئے سامان خریدکران کی شادی کردینا۔'' پھر بڑی عزت و تکریم کے ساتھ مجھے روانہ کردیا۔میں نے صبح کی نماز پڑھ کر خُرَاسَانی کو دس ہزار دراہم کی تھیلیاں واپس کیں تو اس نے کہا :''یہ وہ تھیلیاں نہیں ہیں جو میں نے دی تھیں۔''
میں نے اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیاتو اس نے زار و قطار روتے ہوئے کہا: '' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر آپ مجھے پہلے ہی اپنا واقعہ بتادیتے تو میں کبھی بھی آپ سے رقم کا مطالبہ نہ کرتا، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم!اب تومیں ایک درہم بھی آپ سے نہ لوں گا۔یہ رقم آپ کو مُبَارَک ہو! میرا آپ پر اب کوئی مطالبہ نہیں ۔ یہ کہہ کر وہ اپنے وطن چلا گیا۔میں جب ایک شاہی تقریب کے موقع پر مامون کے دربارگیا تواس نے سرکاری کاغذات تھماتے ہوئے کہا: ''جاؤ، آج سے تم فلاں فلاں علاقے کے قاضی ہو۔ ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہنا ۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر ہمیشہ عنایتِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بادل سایہ فگن رہیں گے۔'' راوی کہتے ہیں: ''حضرتِ سیِّدُنا ابوحَسَّان زِیَادِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تادمِ آخر عہدۂ قضاء پر فائز رہے۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
(برادرِ اعلیٰ حضرت حسن رضا خان علیہ رحمۃ الحنان بارگاہِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں یوں عرض کرتے ہیں:
؎ تمہارے در کے ٹکڑوں سے پڑا پَلتا ہے اِک عالَم گزارا سب کا ہوتا ہے اسی محتاج خانے سے
مزید فرماتے ہیں:
؎ فقیرو بے نواؤ ! اپنی اپنی جھولیاں بھر لو کہ باڑا بٹ رہا ہے فیض پر سرکارِ عالی ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خدا ئے حنّان و منّان کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں نبئ آخر الزماں، سلطانِ کون ومکان ،رحمتِ عالَمْیَان ،سرور ِ ذیشان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دامن سے وابستگی عطا فرمائی۔ یہ تو وہ نبی ہیں جنہیں ہماری تکلیفوں اور پریشانیوں سے رَنج ہوتاہے ۔ہمارا مصیبت میں پڑنا ان پر گراں گزرتا ہے۔ ہماری خوشی سے ان کے دلِ دلبہارکو خوشی نصیب