| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
نسیم کے پھل چُنے۔جب زندگی کے سمندر میں گھسے تو جزع و فزع اور شکایتوں کی خندقوں کو بندکیااور شہوات کے پل کو عبورکیا۔جب علم کے میدان میں ٹھہرے تو وہاں سے حکمت کے موتی حاصل کئے ۔پھر عقلمندی و ہوشیاری کے سفینے میں سوار ہو کر سلامتی کے سمندر میں اترے تو فلاح وکامرانی کی ہواؤں نے انہیں راحت و سکون کے باغات اور عزت و کرامت کے خزانوں میں پہنچادیا۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر 408: عبادت کی لذَّت جاتی رہی
حضرت عبداللہ بن ابراہیم کا بیان ہے: ''میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خَوَّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کے رفیق حضرتِ سیِّدُنا ابوحسین بَحْرَانِی قُدِّ سَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کو یہ فرماتے سُنا: '' ایک عابدہ و زاہدہ خاتون نے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خَوَّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق سے اپنے دل اور احوال میں پیدا ہونے والے تغیُّر و تبدُّل کے متعلق سوال کرتے ہوئے دریافت کیا: '' ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' کیاتمہاری کوئی چیز گُم ہوئی ہے یا تمہار ے کسی عمل میں کمی آئی ہے ؟'' خاتون نے کہا: '' میں نے خوب غور و فکر کیا مگرکسی چیز میں کمی نہیں پائی۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کچھ دیر کے لئے سرجھکایا پھر فرمایا:''کیا تجھے مشعل والی رات یاد نہیں؟'' عرض کی:'' کیوں نہیں! مجھے وہ رات اچھی طرح یاد ہے ۔'' فرمایا:'' بس اسی مشعل کی وجہ سے تم بے چین ہو اور لذتِ عبادت میں کمی محسوس کررہی ہو۔''
یہ سن کر اس نے روتے ہوئے کہا:'' جی ہاں! ایک رات میں اپنے گھر کی چھت پرسُوت کات رہی تھی کہ ایک دھاگہ ٹوٹ گیا اندھیرے کی وجہ سے میں اسے نہ جوڑ سکی، اتنے میں بادشاہ کی سواری گزری تو سرکاری مشعلوں کی روشنی سے کافی اُجالا ہو گیا میں نے اسی روشنی میں ٹوٹا ہوا دھاگہ جوڑکر اُ ون میں شامل کرلیا۔ پھراُس اُون کی قمیص بناکر پہن لی ،یہی وجہ ہے کہ میں اس ایک دھاگے کی و جہ سے عبادت میں لذت کی کمی محسوس کرنے لگی اور اپنی حالت کو متغیر پارہی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ خاتون پردے کے پیچھے گئی ،وہ قمیص اتار کر دوسری پہنی اور عرض کی:'' اے ابراہیم خَوَّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق !اگر میں اس قمیص کو بیچ کر اس کی ساری رقم صدقہ کردوں تو کیا میرا دل اپنی پہلی حالت پر آجائے گا؟ کیا پھر سے مجھے عبادتِ الٰہی میں خشوع و خضوع نصیب ہوجائے گا؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:'' ا گر ایسا کرو گی تو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آؤ گی۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)