دوں گا؟ اسی پریشانی کے عالم میں، مَیں نے خچر کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ اب جہاں چاہے یہ مجھے لے جائے۔ میرا خچر خلیفہ مامون کے محل کی جانب بڑھنے لگا۔ محل کے دروازے کے قریب پہنچ کر میں سواری سے نیچے اُتر آیا۔ اتنے میں ایک شہسوار میرے قریب سے گزرا مجھے بغور دیکھا اور آگے بڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد دوبارہ وہی شہسوار آیا اور کہنے لگا:''کیا تم ابوحَسَّان زِیَادِی ہو؟'' میں نے کہا: ''جی ہاں!میں ہی ابوحَسَّا ن زِیَادِی ہوں۔'' کہا:'' آؤ، تمہیں امیر حسن بن سَہْل بلارہے ہیں۔'' میں نے دل میں کہا:''امیر حسن بن سَہْل کو مجھ سے کیا کام۔'' بہرحال میں اس کے ساتھ حسن بن سَہْل کے پاس پہنچا تواس نے مجھ سے کہا :'' اے ابوحَسَّان! تمہیں کیاہواکہ ہم سے ملنے نہیں آتے؟ میں نے مصروفیات کی وجہ سے نہ آنے کا کہا تو اس نے کہا:'' تم اصل بات چھپا رہے ہو، سچ سچ بتاؤ! کیا معاملہ ہے ؟یا تو تم کسی بہت بڑی مصیبت میں پھنس گئے ہو یا تمہیں کوئی اور پریشانی لاحق ہے، جلدی بتاؤ ! اصل معاملہ کیا ہے؟ کس چیز نے تمہیں پریشان کررکھا ہے، میں نے آج رات تمہیں خواب میں بہت پریشان دیکھا ہے۔'' امیر کی یہ بات سن کر میں نے شروع سے آخر تک سب قصہ کہہ سُنایا۔ میری غم ناک آپ بیتی سُن کراس نے کہا: ''اے ابو حَسَّان! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے غم میں مبتلا نہ کرے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیری مصیبت دور کردی ہے۔ یہ لو یہ دس ہزار درہم اس خُرَاسَانیِ کو دے دینا۔ اور یہ مزید دس ہزار درہم اپنے خرچ میں لانا۔ جب ختم ہوجائیں تو مجھے ضرور اطلاع دینا۔'' یہ کہہ کر اس نے مجھے بڑی عزت و احترام کے ساتھ واپس کر دیا۔ میں اپنے گھر آیا تو خُرَاسَانی میرے دروازے پر موجودتھا میں نے دس ہزار درہم اس کے حوالے کردئیے ۔ اس طرح اللہ ربُّ العزَّت نے مجھے غم وحزن سے نجات دے کر وسعت و فراخی عطا فرمادی بے شک وہی تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔اس حکایت کو علامہ تَنُوْخِی نے کچھ اس طرح بیان کیاہے کہ ''جب حضرتِ سیِّدُنا ابوحَسَّان زِیَادِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی پریشانی کے عالم میں اپنے گھر سے باہر نکلے تو راستے میں کچھ لوگ ملے، انہوں نے آپ سے پوچھا:'' کیا آپ ابوحَسَّان زِیَادِی نامی شخص کو جانتے ہیں؟'' میں نے کہا:'' میں ہی ابوحَسَّان زِیَادِی ہوں۔ بتائیے !آپ کو مجھ سے کیا کام ہے ؟'' انہوں نے کہا: ''خلیفہ مامون الرشیدنے آپ کو بلوایا ہے۔'' چنانچہ، وہ مجھے لے کر خلیفہ مامون الرشید کے پاس پہنچے۔ خلیفہ نے مجھ سے پوچھا: ''تم کون ہو ؟'' میں نے کہا: ''میں قاضی ابویوسف مدظلہ، العالی کے دوستوں میں سے ہوں۔'' خلیفہ نے پھر پوچھا:''تمہاری کنیت کیا ہے؟'' میں نے کہا:'' ابوحسان۔'' کہا:'' کس نام سے مشہور ہو؟'' میں نے کہا:'' زیادی کے نام سے۔'' کہا:'' بتاؤ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟'' میں نے اوّل سے آخر تک سارا واقعہ خلیفہ کوسنادیا۔ میری درد بھری داستان سُن کر خلیفہ نے زارو قطار روتے ہوئے کہا: '' تیرا بھلا ہو! آج رات تیری وجہ سے مجھے کئی مرتبہ سرکارِ نامدار، بے کسوں کے مدد گار، شفیعِ روزِ شمار، بِاِ ذن ِ پروردْگار دوعالم کے مالک و مختار عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا دیدار نصیب ہوا ہے ۔ ہو ا یوں کہ جب میں سویا تو خواب میں مکّی مدنی مشکل کشا نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمَ کی زیارت نصیب ہوئی، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: '' ابوحَسَّان زِیَادِی کی مدد کرو۔''