میں نے کہا:'' لاؤ، اپنی رقم میرے سامنے رکھو۔'' اس نے رقم کی تھیلیاں میرے سامنے رکھیں ان کا وزن کیا اور مہر لگا کر میرے حوالے کردیں پھر سلام کرکے واپس چلا گیا۔ میں نے سوچا کہ میں بہت تنگدست اور مجبور ہوں ،قرض خواہوں کے تقاضوں نے میرا سکون برباد کردیا ہے، اگر اس مجبوری کی حالت میں اس خُرَاسَانیِ حاجی کی رقم میں اپنے استعمال میں لاؤں تو میرا سارا معاملہ درست ہوجائے گا۔ پھر اس حاجی کے آنے تک اللہ ربُّ العزَّت نے کشادگی فرمادی تو میں بآسانی اس مال کا ضمان ادا کردوں گا۔ پس میں نے تھیلیاں کھولیں، قرض خواہوں کا سارا قرض ادا کیا، پھرکچھ اشیائے خورد ونوش اور دیگر ضروری سامان خریدلیا۔آج ہمارے ہاں کافی دنوں بعد خوشی آئی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ وہ خُرَاسَانیِ حاجی جانبِ حرم اپنی منزل پر روانہ ہوگیاہوگا۔ اوراس کے آنے تک میں رقم کا انتظام کرکے پوری رقم واپس کردوں گا۔ ہماراوہ دن بڑی فرحت ومسرت میں گزرا۔
دوسرے دن صبح صبح غلام نے کہا: ''وہی خُرَاسَانیِ حاجی دروازے پر موجود ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔'' میں نے کہا:'' اسے اندر بلالاؤ۔ ' ' وہ آیا اور کہا:'' میں حج کے ارادے سے آیاتھا لیکن یہاں سے جانے کے بعدمجھے اپنے بیٹے کی وفات کی خبرملی ہے ۔ اب میں اپنے شہر جانا چاہتا ہوں، جو رقم بطورِ امانت آپ کے پاس رکھوائی تھی وہ واپس کردیجئے ۔'' خُرَاسَانی کی اس بات نے مجھے ایسی پریشانی میں مبتلا کیا کہ اس سے قبل مجھے کبھی ایسی پریشانی کاسامنانہ ہواتھا۔ میں سوچ رہاتھاکہ اسے کیا جواب دوں؟ بالآخر میں نے کہا :'' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو عافیت عطا فرمائے۔ میرا گھر غیر محفوظ تھا میں نے آپ کی رقم کسی کودے دی ہے۔ آپ کل آکر اپنی رقم لے لینا۔'' یہ سن کر خُرَاسَانیِ تو چلا گیا ، لیکن میں پریشانی میں مبتلا ہو گیا، مجھے کچھ سُجھائی نہ دیتا تھا کہ میں کیا کروں؟ کہاں جاؤں؟ اگر انکار کرتا ہوں تو یہ میرے لئے د نیا و آخرت کی ذلت ہے، اگر کہتا ہوں کہ تمہاری رقم خرچ ہوگئی تووہ شور مچائے گا اور سختی کریگا۔ اوریہ بات میرے لئے انتہائی اذیت ناک ہے۔ اسی سوچ و فکر اور پریشانی میں شام ہوگئی۔ رات نے آہستہ آہستہ اپنے پَر پھیلانے شروع کردیئے۔ مجھے یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ کل صبح میں اسے کیا جواب دوں گا؟ نیند کوسوں دور تھی، میرے لئے آنکھیں بند کرنا بھی مشکل ہورہا تھا۔ میں نے غلا م کوسواری تیار کرنے کا حکم دیا تو اس نے حیران ہو کر کہا:'' حضور!رات بہت ہوچکی ہے اس وقت آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ مناسب یہی ہے کہ آپ ابھی باہر نہ جائیں۔''
چنانچہ، میں واپس بستر پر آگیا۔ لیکن نیند تھی کہ آنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی میں بے چینی کے عالم میں کروٹیں بدلتا رہا۔ بار ہاباہر جانے کی کوشش کی لیکن ہر مرتبہ غلام باہر جانے سے روک دیتا۔ اسی بے چینی کے عالم میں پوری رات گزر گئی، طلوعِ فجر کے فوراً بعد میں اپنے خچر پر سوار ہوا اور نامعلوم منزل کی جانب چل دیا۔میں کوئی فیصلہ نہ کرپارہاتھا کہ کس طرف جاؤں؟ بالآخر میں نے سواری کی لگام چھوڑ دی ۔کچھ ہی دیر بعد میں نہر کے پُل پر آپہنچا۔ خچر پل کی جانب بڑھنے لگا تو میں نے اسے نہ روکا یہاں تک کہ پل پار کرلیا۔ اب میں سوچنے لگا کہ کہاں جاؤں؟ اگر گھر جاتا ہوں تو خُرَاسَانی میرے دروازے پر موجود ہوگا۔ میں اسے کیا جواب