گھوڑا دیا ہے ۔'' مسافر نے کہا:'' اللہ ربُّ العزَّت امیر کو اچھی جزا عطا فرمائے۔ ''میں پھر امیر غَسَّان بن عَبَّاد کے پاس آیا تو اس نے کہا: '' تُم نے اس مسافر کو میرے پاس لا کر میرے دل میں اس کے متعلق ہمدردی ڈال دی ہے، اب میں اس کے ساتھ مزید تعاون کرنا چاہتا ہوں ۔ ''میں نے کہا :'' اب کیا ارادہ ہے ؟ '' کہا:'' میں اس کے لئے ایک سال کے غلّے کا کفیل ہوں۔ اور عنقریب اسے سرکاری ملازمت بھی دلواؤں گا۔'' میں نے امیر کی یہ بات سُنی تو اس غریب مسافر سے کہا:'' امیر نے تمہارے لئے مزید کچھ اشیاء کا حکم دیا ہے۔ یہ خبر سن کر کہیں تم مر تو نہیں جاؤ گے ؟'' کہا:'' نہیں۔'' میں نے کہا :'' امیر نے عَزم کیا ہے کہ وہ تمہیں سال بھر کا غلہ دے گا اور ملازمت بھی دلوائے گا ۔''
مسافر نے کہا:'' اللہ تبارک و تعالیٰ امیر کو اچھی جزا عطا فرمائے۔'' پھر ہم دونوں سوار ہوئے،رقم کی تھیلیاں غلام کے حوالے کیں اور واپس آنے لگے۔ کچھ دور پہنچ کر اس مسافر نے کہا: ''یہ تھیلیاں مجھے دے دو۔'' میں نے کہا :'' غلام اکیلا ہی انہیں اٹھا کر چل سکتا ہے اسی کے پاس رہنے دو۔'' کہا: ''اگر یہ میرے کندھے پر ہوں تو کیا حرج ہے ؟'' یہ کہہ کر اس نے رقم کی تھیلیاں اپنے کندھے پر اُٹھا لیں اور شکریہ ادا کرتا ہوا اپنے گھر چلا گیا۔ دوسری صبح میں اس مسافر کو لے کر دوبارہ امیر غَسَّان بن عَبَّاد کے پاس گیا تو اس نے اسے بہت اچھی ملازمت دلوائی اور اپنے خاص ملازمین میں شامل کرلیا ۔ اس مسافر نے محنت و لگن سے کام کیا اور بہت ہی جلد امیر کا منظورِ نظر بن گیا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)