| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
خوش بخت لوگ ہمیشہ محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی لذَّت سے مسرور رہتے اور اسی حالت میں اس دارِ فانی سے دار عقبیٰ کی طرف کُوچ کر جاتے ہیں۔ ہائے! کتنا عمدہ ہے وہ مرض جس کی دوا معلوم نہ ہو۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک زور دار چیخ مارکر فرمایا : ''اُن پاکیزہ صفات لوگوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اخلا ص والا معاملہ رکھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بھی ان پر محبت و کرم کی خوب برسات فرمائی۔ آہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے محبّین پر جود وکرم کی جو بارش برساتا ہے لو گ اگر اس کی انتہائی قلیل مقدار کو بھی جان لیتے تو حسرت سے مر جاتے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے محبین کو جو سعادتیں عطا فرماتا ہے کوئی اس کا اندازہ نہیں کرسکتا۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر394: کفن چور کی توبہ
حضرتِ سیِّدُنا ابواِسحاق فَزَاری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں: ''ایک شخص اکثر ہماری محفل میں آیا کرتاتھامگراس کا آدھا چہرہ ہمیشہ چُھپارہتا۔ایک مرتبہ میں نے اس سے پوچھا:'' تم اپنا آدھا چہرہ چھپائے رکھتے ہو، اس کی کیا وجہ ہے ؟ مجھے اس راز سے آگاہ کرو۔''
اس نے کہا:'' اگر آپ امان عطا فرمائیں تومیں اپنا معاملہ بتاتا ہوں۔ '' میں نے کہا: ''بتاؤ! اصل معاملہ کیاہے؟'' اجازت ملنے پراس نے اپنی داستانِ عبرت نشان کچھ اس طرح سنائی :'' میں کفن چور تھا، میں نے کئی قبروں سے کفن چُرائے۔ جب بھی کسی نئی قبر کے متعلق معلوم ہوتافوراً وہاں پہنچ کرکفن چُرا لاتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت کا انتقال ہوا جب اسے دفنا دیا گیا تو میں رات کو قبرستان پہنچا اورقبر کھودنا شروع کی۔ جب اینٹیں ہٹا کر کفن کی ایک چادر نکالی اور دوسری چادر کھینچنے لگاتو اچانک اس عورت کے بے جان جسم نے حرکت کی اور چادر کو تھام لیا۔ میں نے کہا :''تمہارا کیا خیال ہے کہ تم مجھ پر غالب آجاؤ گی؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔'' یہ کہہ کر میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیااور پوری قوت سے کفن کھینچنے لگا۔ یکایک عورت نے ایک زور دار تھپڑ میرے چہرے پر مارا۔ درد کی شدت سے میں بے قرار ہوگیااور میرے چہرے پر بہت زیادہ جلن ہونے لگی۔'' یہ کہہ کر اس کفن چور نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایاتو اس کے گال پر انگلیوں کے نشان بالکل واضح تھے۔ میں نے کہا: ''اچھا،پھر کیا ہوا ؟'' کہا: '' پھر میں نے چادر واپس اس عورت پر ڈال دی اور جلدی جلدی قبر پر مٹی ڈال کر برابرکردیا اور پختہ ارادہ کیا کہ جب تک زندہ رہوں گا کبھی بھی کفن نہیں چراؤں گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے سابقہ گناہوں کو معاف فرمائے اور مجھے توبہ پر استقامت عطا فرمائے۔''
حضرتِ سیِّدُنا ابواِسحاق فَزَارِی علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں: ''اس کفن چور کا سارا واقعہ لکھ کر میں نے حضرتِ سیِّدُنا امام اَوْزَاعِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے یہ جواب لکھ کر بھیجا :''تیرا بھلا ہو اس سے پوچھ! جو مسلمان قبلہ رُودفنائے