Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
259 - 412
ابراہیم علیہ الصلٰوۃو السلام کی اولاد، تیرے نبی حضرتِ موسیٰ وداؤدعلیہما الصلٰوۃوالسلام کی امت اور قوم میں سے ہیں۔میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! جب تو ایسی امت کو بھی ہلاک کر دے گا تو پھر تیری خفیہ تدبیر سے کون محفوظ رہے گا ۔پھر کون ہوگا جو تیری نافرمانی کی جرأت کریگا؟''

    اللہ ربُّ العزَّت نے وحی نازل فرمائی: ''اے اَرْمِیَا ! میں نے ابراہیم ،موسیٰ اور داؤد کو اپنی اطاعت وفرمانبر داری کی وجہ سے عظمت و بزرگی سے نواز ا۔ انہوں نے یہ بلند مرتبہ میری اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کیا ۔بے شک پہلے لوگوں میں بھی ایسے لوگ تھے جو میری نافرمانی پر جری ہوئے۔ اب تیرے زمانے میں بھی نافرمان لوگ موجود ہیں ۔ انہوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں، درختوں کے سایوں اور وادیوں کے دامن میں میری نافرمانی کی تو میں نے آسمان کو حکم دیا تو وہ ان پر لوہے کی طرح ہو گیا اور زمین کو حکم دیا تو وہ تابنے کی مانند ہو گئی ۔ پھر نہ ان پر آسمان نے پانی بر سایا، نہ زمین نے کھیتی اگائی ۔ اگر بارش ہوتی تھی تو فقط اس وجہ سے کہ میں نے جانوروں پر رحم و کرم کیا ۔ اور جب کبھی زمین نے فصل اگائی تو میں نے فصلوں پر گرد وغبار،تیز ہوائیں اور ٹڈیاں مسلط کر دیں جن سے ان کی فصلیں تباہ وبرباد ہوگئیں اور جو تھوڑی بہت فصل انہوں نے کاٹ کر گھروں میں رکھی تو میں نے اس سے برکت اٹھالی ، انہوں نے میری راہ کو چھوڑدیا تو میں بھی نہ تو ان کی پکار سنوں گااورنہ ہی ان کی مدد کروں گا۔ ''(الامان والحفیظ )

    (اللہ ربُّ العزَّت ہم سب کو اپنے قہر و غضب سے محفوظ رکھے۔ اپنی دائمی رضا عطا فرمائے اوراپنے رحم وکرم کے سائے میں ہمیشہ امن وامان سے رکھے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر393:     حضرت سلیمان تَمِیْمِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا دِلنشین کلام
    حضرتِ سیِّدُنااسماعیل بن نَصِیْبِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: میں نے سخت گرمیوں کی آگ برساتی دوپہر میں حضرتِ سیِّدُنا سلیمان تَمِیْمِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو دیکھاکہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کرتے ہوئے فرمارہے تھے: ''جب محبت سچی و مستحکم ہو تو گرمی کو دور کردیتی ہے۔ بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مُحِبِّیْن کے دلوں کو گرمی و سردی برداشت کرنے کی قوت عطا فرماکر ان کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے۔ ان کے دلوں میں محبت کی جوٹھنڈک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ڈالی ہے وہ اس سے سرور پاتے ہیں۔ہر وقت اس کی محبت میں گُم رہنااورگڑگڑا کر رونا ان کا معمول ہوتا ہے۔''

    یہ کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک آہِ سرد دلِ پُر درد سے کھینچی اور فرمایا :'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں گُم رہنے والے
Flag Counter