ابراہیم علیہ الصلٰوۃو السلام کی اولاد، تیرے نبی حضرتِ موسیٰ وداؤدعلیہما الصلٰوۃوالسلام کی امت اور قوم میں سے ہیں۔میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! جب تو ایسی امت کو بھی ہلاک کر دے گا تو پھر تیری خفیہ تدبیر سے کون محفوظ رہے گا ۔پھر کون ہوگا جو تیری نافرمانی کی جرأت کریگا؟''
اللہ ربُّ العزَّت نے وحی نازل فرمائی: ''اے اَرْمِیَا ! میں نے ابراہیم ،موسیٰ اور داؤد کو اپنی اطاعت وفرمانبر داری کی وجہ سے عظمت و بزرگی سے نواز ا۔ انہوں نے یہ بلند مرتبہ میری اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کیا ۔بے شک پہلے لوگوں میں بھی ایسے لوگ تھے جو میری نافرمانی پر جری ہوئے۔ اب تیرے زمانے میں بھی نافرمان لوگ موجود ہیں ۔ انہوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں، درختوں کے سایوں اور وادیوں کے دامن میں میری نافرمانی کی تو میں نے آسمان کو حکم دیا تو وہ ان پر لوہے کی طرح ہو گیا اور زمین کو حکم دیا تو وہ تابنے کی مانند ہو گئی ۔ پھر نہ ان پر آسمان نے پانی بر سایا، نہ زمین نے کھیتی اگائی ۔ اگر بارش ہوتی تھی تو فقط اس وجہ سے کہ میں نے جانوروں پر رحم و کرم کیا ۔ اور جب کبھی زمین نے فصل اگائی تو میں نے فصلوں پر گرد وغبار،تیز ہوائیں اور ٹڈیاں مسلط کر دیں جن سے ان کی فصلیں تباہ وبرباد ہوگئیں اور جو تھوڑی بہت فصل انہوں نے کاٹ کر گھروں میں رکھی تو میں نے اس سے برکت اٹھالی ، انہوں نے میری راہ کو چھوڑدیا تو میں بھی نہ تو ان کی پکار سنوں گااورنہ ہی ان کی مدد کروں گا۔ ''(الامان والحفیظ )
(اللہ ربُّ العزَّت ہم سب کو اپنے قہر و غضب سے محفوظ رکھے۔ اپنی دائمی رضا عطا فرمائے اوراپنے رحم وکرم کے سائے میں ہمیشہ امن وامان سے رکھے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)