| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
گئے کیا سب کے چہرے قبلہ سمت ہی تھے یا قبلہ سے پِھر چکے تھے۔'' میں نے کفن چور سے جب یہ سوال کیا تو اس نے کہا: '' میں نے جن لوگوں کے کفن چرائے ان میں سے اکثر کے چہرے قبلہ سے پھر چکے تھے۔''حضرتِ سیِّدُناابو اِسحاق علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں: ''میں نے یہ بات لکھ کر امام اَوْزَاعِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں بھیجی تو انہوں نے جواباَ یہ تحریر بھجوائی:
''اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ،اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ،اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ''
اے اِسحاق علیہ رحمۃ اللہ الرزاق! جن لوگوں کے چہرے قبلہ سے پھر چکے تھے ان کا خاتمہ سنت پر نہیں ہوا۔''اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے، ہمارا خاتمہ حضورصلَّی اللہ تعاکی علیہ وآلہ وسلَّم کی سنت پر فرمائے۔( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس داستانِ عبرت نشان میں ہمارے لئے عبرت کے بے شمار مدنی پھول ہیں۔ کتنا تشویش ناک معاملہ ہے کہ جو لوگ سنتوں سے منہ موڑلیتے ہیں، احکامِ شریعت پر عمل پیرا نہیں ہوتے اور دُنیا کو دین پر ترجیح دیتے ہیں ان کے ساتھ قبر میں انتہائی وحشت ناک معاملہ ہوتا ہے۔قبر وآخرت میں لمحہ بھر کا عذاب بھی برداشت سے باہر ہے۔ ہمارے نازک جسم جہنم کی بھڑکتی ہوئی دِلوں تک پہنچنے والی سخت آگ کا سامنا نہیں کرسکتے۔ اگر اسی طرح غفلت و معصیت بھری زندگی گزارتے رہے اور اسی حالتِ بد میں پیغامِ اَجل آ پہنچا تو بہت ذلت ورسوائی اور دردناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جھٹ پٹ اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر لیجئے اور رو رو کر خالقِ کائنات عَزَّوَجَلَّ سے معافی مانگ لیجئے۔ مؤمنوں پر رحم وکرم فرمانے والے نبئ کریم ، رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سنَّتوں کو اپنا کران کے دامنِ کرم سے وابستہ ہوجائیے ۔ درود و سلام کی کثرت کیجئے اور عبادت و ریاضت کی طرف راغب ہو جایئے۔)
؎ عاصیو ! تھام لو دامن اُن کا وہ نہیں ہاتھ جھٹکنے والےحکایت نمبر395: کنیز کا علمی مقام
حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: '' ایک مرتبہ دورانِ طواف اچانک ایک نور ظاہر ہوا جو آسمان تک بلند تھا۔ میں اس منظر کو دیکھ کر بہت متعجب ہوا۔ طواف مکمل کرکے اس نور کے متعلق غوروفکر کرنے لگا یکایک ایک دردناک وغمگین آواز سنائی دی، میں نے اس سمت رُخ کیا تو ایک کنیز خانۂ کعبہ کا غلاف تھامے چند اَشعارپڑھ رہی تھی جن کامفہوم یہ ہے: ''اے میرے پاک پروردْگار عَزَّوَجَلَّ !تو جانتا ہے کہ تو ہی میرا محبوب ہے۔ ایک سال اور گزر گیا، میرا جسم اور آنسو میرے راز پر نوحہ کرتے ہیں۔ اے میرے محبوب! میں نے اب تک محبت کو چھپائے رکھا۔ اب میں عاجز آگئی ہوں۔''