Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
254 - 412
ہوگئی اور اس کی زبان پر چند اشعار جاری تھے، جن کا مفہوم یہ ہے:

    '' پریشان حال شخص جو مصیبت اور اس پر صبر کرنا نہ جانے تو اس کے لئے آنکھوں میں ایسے آنسو بھر آتے ہیں جن کے ساتھ رونا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے ، اور جس کا جسم غم وحزن کی وجہ سے نحیف ولا غر ہوگیا اور محبت کی آگ نے اسے جلا ڈالاہو تو وہ اپنے زخموں کا علاج غم اور مصیبتوں کو برداشت کرنے کے ذریعے کرے ۔ خاص طورپر وہ محبت جس کا ارادہ بھی مشکل ہوتا ہے تو جب محبت و کرم کی زیادتی کی امید، فنا ہوجانے پر موقوف ہوتو زندگی دو بھر ودشوار ہوجاتی ہے ۔''

    وہ اشعار پڑھتی ہوئی جارہی تھی او رمیں حیرت سے اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا کہ اس عورت نے کیسا عارفانہ کلام کیاہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جسے چاہے نواز ے، جس پر چاہے اپنی خاص عنایت فرما دے۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

    ( اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی اپنی سچی محبت عطا فرمائے ہم پر ایسا خاص لطف وکرم فرمائے کہ ہم ہر آن ہر گھڑی اس کی یاد میں مگن رہیں، بس ہر وقت ہماری آنکھو ں کے سامنے اسی کے جلوے اور دل میں اسی کی یادموجزن رہے ۔ ہر ہر لمحہ اس کی عبادت واطاعت میں گزرے ۔ اے کاش ! ہمیں ایسی محبت ملے کہ ہمیں اپنا ہوش نہ رہے بس اسی کی محبت میں گم رہیں۔ )

؎ محبت میں اپنی گما یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ 		نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ

( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر388:                 دردِ دل کی دوا
    حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:'' ایک مرتبہ میں ایک جنگل سے گزر رہا تھا کہ ایک عورت کو دیکھا جس کے چہرے سے عبادت وریاضت کا نور ٹپک رہا تھا ۔ اس نے قریب آکر سلام کیا اور میں نے جواب دیا۔ اس نے مجھ سے کہا: ''تم کہا ں سے آرہے ہو ؟ ''میں نے کہا:''میں ایسے حکیم کے پاس سے آرہا ہوں جس جیسا کوئی اور نہیں۔'' یہ سن کر عورت نے ایک زور دار چیخ ماری اور کہا:'' افسوس ہے ! ایسے حکیم کے ساتھ رہتے ہوئے تمہیں کیا سوجھی کہ تم نے اس سے دوری اختیار کرلی اور سفر پر چلے آئے۔ حالانکہ وہ تو غرباء کاانیس، کمزوروں کا مدد گار اور غلاموں کا مولیٰ ہے ۔ پھر تیرے نفس نے اس سے جدائی کی جرأت کیسے کی ۔'' 

    ا س عورت کے عارفانہ کلام سے میراد ل بھرآیااور میں زور زور سے رونے لگا ۔مجھے روتا دیکھ کر اس نے پوچھا :'' تجھے
Flag Counter