ہوگئی اور اس کی زبان پر چند اشعار جاری تھے، جن کا مفہوم یہ ہے:
'' پریشان حال شخص جو مصیبت اور اس پر صبر کرنا نہ جانے تو اس کے لئے آنکھوں میں ایسے آنسو بھر آتے ہیں جن کے ساتھ رونا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے ، اور جس کا جسم غم وحزن کی وجہ سے نحیف ولا غر ہوگیا اور محبت کی آگ نے اسے جلا ڈالاہو تو وہ اپنے زخموں کا علاج غم اور مصیبتوں کو برداشت کرنے کے ذریعے کرے ۔ خاص طورپر وہ محبت جس کا ارادہ بھی مشکل ہوتا ہے تو جب محبت و کرم کی زیادتی کی امید، فنا ہوجانے پر موقوف ہوتو زندگی دو بھر ودشوار ہوجاتی ہے ۔''
وہ اشعار پڑھتی ہوئی جارہی تھی او رمیں حیرت سے اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا کہ اس عورت نے کیسا عارفانہ کلام کیاہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جسے چاہے نواز ے، جس پر چاہے اپنی خاص عنایت فرما دے۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
( اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی اپنی سچی محبت عطا فرمائے ہم پر ایسا خاص لطف وکرم فرمائے کہ ہم ہر آن ہر گھڑی اس کی یاد میں مگن رہیں، بس ہر وقت ہماری آنکھو ں کے سامنے اسی کے جلوے اور دل میں اسی کی یادموجزن رہے ۔ ہر ہر لمحہ اس کی عبادت واطاعت میں گزرے ۔ اے کاش ! ہمیں ایسی محبت ملے کہ ہمیں اپنا ہوش نہ رہے بس اسی کی محبت میں گم رہیں۔ )
؎ محبت میں اپنی گما یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ
( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)