حضرتِ سیِّدُنا اَبُوالْاَشْہَب ابراہیم بن مُہَلَّب علیہ رحمۃ اللہ الرب فرماتے ہیں: ''ایک مرتبہ دورانِ طواف میں نے ایک عورت کو دیکھا جو خانۂ کعبہ کا غلاف تھامے بڑے دردبھرے انداز میں یہ صدائیں بلند کر رہی تھی: '' اے اُنسیت کے بعد آنے والی وحشت! ہائے، عزت کے بعد ذلت! اے غناء کے بعد آنے والی تنگدستی ومحتاجی!'' اس کی دردبھری آواز سن کر میں نے پوچھا: ''تمہیں کیا غم ہے؟ کیا تمہارا مال واسباب گم ہوگیا ہے یا تمہیں کوئی بڑی مصیبت آپہنچی ہے؟''
وہ میری جانب متوجہ ہوئی اور کہا: ''مال واسباب نہیں بلکہ میرا دل گم ہوگیا ہے۔'' میں نے کہا:'' صرف اس مصیبت کی وجہ سے تم پریشان ہو؟'' اس نے کہا :''دل گم ہوجانے اور محبوب سے جدا ہوجانے سے بڑی اور کیا مصیبت ہوگی؟'' میں نے کہا: ''تیری بلند آوازی وخوش آوازی نے سامعین کو طواف سے روک دیاہے، اپنی آواز پست رکھ ۔' ' اس نے کہا : ''اے شیخ! یہ تیرا گھر ہے یا اس (پروردگار عَزَّوَجَلَّ ) کا؟''میں نے کہا: ''یہ گھر اسی کا ہے۔'' کہا : ''یہ تیرا حرم ہے یا اس کا ؟'' میں نے کہا: ''یہ حرم بھی اسی خدا ئے بزرگ وبَر تَر کاہے ۔'' کہا:'' اے شیخ! ہمیں چھوڑ دے ! ہمیں اپنے محبوب سے جتنی اُلفت ومحبت اور ملاقات کا شوق ہے اسی قدر ہم اس کی بارگاہ میں عرض و ناز کرتے ہیں۔'' پھر کہا : '' اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ تجھے مجھ سے محبت کا واسطہ! مجھے میرا گمشدہ دل عطا فرما دے۔'' میں نے کہا :'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! تجھے کیسے معلوم ہوا کہ وہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔'' کہا : مجھ پراس کی عظیم عنایتیں اس بات کا ثبوت ہيں کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ دیکھو! اس نے میرے لئے لشکر تیار کئے ، جنہوں نے مال واسباب خرچ کیا پھر یہاں اس کے گھر تک پہنچے ۔ میرے رحیم وکریم پر وردگار عَزَّوَجَلَّ نے مجھے کفر و شرک کی تنگ وتاریک وادیوں سے نجات عطا فرما کر توحید کے مضبوط ومنور قلعہ میں داخل فرمایا ، میں اس سے جاہل تھی اس نے مجھے اپنی بارگاہ سے مغفرت عطا فرمائی ۔ یہ تمام انعامات دے کر اس نے مجھ پر بے شمار بخششیں فرمائیں، کیا یہ اس کا عظیم کرم نہیں؟''
میں نے کہا:'' تجھے اس پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے کتنی محبت ہے ؟'' کہا:'' مجھے تمام اشیاء سے زیادہ اس سے محبت ہے ۔'' میں نے کہا:'' کیا تو محبت سے واقف ہے ؟'' کہا :'' اے شیخ! اگر میں محبت ہی کو نہ پہچانوں گی تو پھر کس چیز کو پہچانوں گی۔'' میں نے کہا:'' محبت کیسی ہوتی ہے ۔'' بولی :'' شراب سے بھی زیادہ رقیق(یعنی پتلی)۔'' میں نے پوچھا:'' محبت کیا ہے؟'' جواب دیا: ''وہ ایسی شئے ہے جسے حلاوت ومٹھاس سے گوندھا گیا، عظمت وجلال کے برتنوں میں اس کا خمیر تیا ر ہوا، اس کی مٹھاس نہ ختم ہونے والی ہے ۔ جب محبت کی زیادتی ہوتی ہے تو وہ ایسا سر کہ بن جاتی ہے جو ہلاک اور جسم کوبے کار کردیتا ہے۔ محبت ایسا شجر ہے کہ جس کا اُگانا نہایت دشوار لیکن اس سے حاصل ہونے والے پھل نہایت لذیذ ہوتے ہیں۔'' پھر وہ عورت ایک جانب روانہ