| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
یہ سن کرسب باری باری تر بوز کو بڑی عقیدت ومحبت سے چوم کر اپنی آنکھوں پرمَلنے لگے ۔ پھران میں سے کسی نے کہا: ''کیا تم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا بِشْر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کو اس عظیم مقام و مرتبے تک کس چیزنے پہنچایا؟'' سب نے کہا: '' تقویٰ وپر ہیز گاری نے۔'' یہ سن کر اس نوجوان نے بآ واز ِبلند اپنے دوستوں سے کہا:'' تم سب گواہ رہنا کہ میں اپنے تمام گناہوں سے تائب ہوکراللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کر رہا ہوں ۔''یہ سن کر بقیہ دوستوں نے بھی بیک زبان کہا:'' ہم سب بھی اپنے گناہوں سے تائب ہو کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری خطا ؤں سے در گزر فرمائے۔'' پھر دس کے دس نوجوان شب وروز عبادتِ الٰہی میں مشغول رہنے لگے۔ ایک قول کے مطابق انہوں نے ''طَرَسُوْس'' کی طرف جہاد میں شرکت کی اور لڑتے لڑتے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں جان دے دی۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر383: شافی لُعابِ دہن
حضرت ابو الوَفَا ابن عَقِیْل وَاعِظ کا بیان ہے کہ میں اپنی جوانی میں حضرتِ سیِّدُنا اِبنِ بَشْرَان وَاعِظ کی محفل میں اکثر حاضر ہوجایا کرتا تھا۔ ان دنوں میری آنکھ میں بہت زیادہ تکلیف رہتی اور اکثر سر خ رہا کرتی تھی،میں اس بیماری کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان تھا۔ ایک دن حسب ِ معمول جب میں محفل میں شریک ہوا تو ''بَکَّار'' نامی ایک شخص جو اِبنِ بَشْرَان وَاعِظ کے منبر پر قالین بچھایا کرتا تھا۔ مجھے بڑے غور سے دیکھتا رہا پھر میرے قریب آیا اور کہا: ''کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں اس محفل میں باقاعدگی سے آتا ہوا دیکھتا ہوں؟'' میں نے کہا :''میں اس غرض سے آتا ہوں کہ کوئی ایسی بات سیکھوں جو مجھے میرے دین میں فائدہ دے۔''
اس نے کہا:'' تم محفل کے اختتام پر مجھ سے ملنا۔جب محفل ختم ہوئی تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ ااور مجھے ایک دروازے کے پاس لے گیا ،دستک دی تو اندر سے پوچھا گیا : ''کون ہے ؟'' کہا :'' بَکَّار ۔'' پھر آواز آئی: اے بَکَّار ! تم آج ایک مرتبہ یہاں آ تو گئے ہو، اب دوبارہ کیوں آئے ہو؟'' بَکَّار نے کہا :'' میں ایک خاص حاجت سے آیا ہوں ۔''کسی نے''لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم''
کہتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔ ہم اندر داخل ہوئے تو سامنے ایک بزرگ سر پر چمڑے کی چادر ڈالے قبلہ رُو بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے سلام کیا بزرگ نے جواب دیا پھر میرے رفیق بَکَّار نے کہا : '' یا سیدی! یہ لڑکا با قاعدگی سے محفل میں حاضر ہوتا ہے اور بھلائی کا طالب ومحب ہے، حضور! اس کی آنکھوں کا مرض دائمی ہوگیا ہے ۔ آپ اس کے لئے دعا فرمادیں ۔ ''