Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
248 - 412
    چنانچہ، دونوں واپس چل دیئے۔ راستے میں ان کا گزر ایک مسجد کے قریب سے ہواتو وہاں ایک شخص عشاء کی نماز پڑھا رہا تھا یہ دونوں بھی نماز پڑھنے مسجد میں داخل ہوئے اور باجماعت نماز ادا کی امام صاحب کی قراءَ ت بہت اچھی تھی ۔ اس نے بڑے احْسَن انداز میں قرآنِ پاک پڑھا۔ نماز پڑھ کر خلیفہ اور قاضی اپنے محل میں آگئے۔ صبح ہوتے ہی خلیفۂ مامون نے اس امام کو اپنے دربار میں بلا کر مسائلِ فقہ میں اس سے مناظرہ شرو ع کردیا ۔ اس باہمت امام نے جہاں محسوس کیا کہ خلیفہ غلطی کر رہاہے فوراً ٹوک دیا اور اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا :''اصل مسئلہ اس طر ح ہے، آپ نے غلط بیان کیا۔''خلیفہ مسائل بیان کرتا رہا، امام اس کی غلطیاں بتا تا رہا۔ جب معاملہ طول پکڑ گیا تو خلیفہ غضب ناک ہوکر کھڑا ہو گیا اور کہا: 

    '' آج تم نے میری بہت مخالفت کی ہے، اب تم اپنے دوستوں کے پاس جاکر کہوگے کہ میں نے امیر المؤمنین کو لاجواب کردیا اور مسائل میں اس کی بہت ساری غلطیاں نکالی ہیں۔ کیا خیال ہے تم ایسا ہی کرو گے نا؟'' اس امام نے کہا : ''اے خلیفہ ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں اس بات سے حیاکرتا ہو ں کہ میرے دوست یہ بات جانیں کہ میں نے تم سے ملاقات کی ہے۔'' یہ سن کر خلیفۂ مامون الرشید نے کہا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے جس نے میر ی رعایا میں ایسے لوگ پیدا فرمائے جو میرے پاس آنے سے حیا کرتے ہیں۔'' یہ کہہ خلیفہ سجدہ میں گر گیا ۔ امام صاحب دربار سے واپس آگئے۔ وہ امام کوئی عام شخص نہیں بلکہ مشہور ومعروف ولی حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اِسحاق حَرْبِی علیہ رحمۃ اللہ القوی تھے۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر382:                متبرَّک تربوز
    حضرتِ سیِّدُنا ابو علی رُوذَبَارِی علیہ رحمۃ اللہ الباری کی بہن فاطمہ بنتِ احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کا بیان ہے: بغداد میں دس نوجوان ایک ساتھ رہتے تھے ۔ ان کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ پڑا ہو ا تھا دن رات دنیوی مشاغل میں مصروف رہتے ۔ایک دن انہوں نے اپنے ایک دوست کو کسی کام سے بازار بھیجا۔ اس نے آنے میں کافی دیر کردی سب اس پر بہت ناراض ہو رہے تھے ۔پھر وہ ہاتھوں میں ایک تر بو ز لئے ہنستا ہوا اپنے دوستوں کے پا س آیا ۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر دوستوں نے کہا:'' ایک تو تم آئے بہت دیر سے ہو اور ہنس بھی رہے ہو ؟'' نوجوان نے کہا :'' میں آپ کے پاس ایک بہت ہی عجیب چیز لے کر آیا ہوں۔ یہ دیکھو! اس تربور پر زمانے کے مشہور ولی حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حَارِث حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے اپنا مُبَارَک ہاتھ رکھا تھا، میں نے اسے بیس دینار میں خرید لیا۔''
Flag Counter