Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
247 - 412
    ''اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! تو خوب جانتا ہے کہ تیرے کچھ ایسے بندے بھی ہیں کہ جب وہ تجھ سے سوال کرتے ہیں تو تو انہیں ضرور عطا فرماتا ہے۔ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! میری ان لکڑیوں کوسونا بنادے۔'' ابھی اس نے یہ الفاظ ادا ہی کئے تھے کہ لکڑیاں چمک دار سونا بن گئیں۔ اس نے پھر دعا کی: ''اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! بے شک تو اپنے اُن بندو ں کوزیادہ پسند فرماتا ہے جو شہرت کے طالب نہیں ہوتے۔ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! اس سونے کو دوبارہ لکڑیاں بنا دے۔''اس کا کلام ختم ہوتے ہی وہ سارا سونا دوبارہ لکڑیوں میں تبدیل ہوگیا ۔ اس نے لکڑیوں کا گٹھا اپنے سر پر رکھا اور ایک جانب روانہ ہوگیا۔

؎ بِکھرے بال آزردہ صورت، ہوتے ہیں کچھ اہلِ محبت

بدرؔ مگر یہ شان ہے اُن کی، بات نہ ٹالے ربُّ العزَّت

    ہم اپنی جگہ ساکت کھڑے رہے اور کسی کو اس کے پیچھے جانے کی جرأت نہ ہوئی ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس نیک بندے کا ظاہری رنگ اگرچہ سیاہ تھا لیکن اس کا باطن نورِ معرفت وایمان سے منور وروشن تھا ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر381:                 جرأ ت منداِمام
    حضرتِ سیِّدُنا محمد بن عبداللہ سَائِح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مُفْلِح اَسْوَدکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ خلیفۂ مامون نے قاضی یحیی بن اَکْثَم سے کہا:'' میری خواہش ہے کہ میں حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حَارِث علیہ رحمۃ اللہ الوارث سے ملاقات کروں ۔'' قاضی نے کہا:'' حضور!جیسا آپ چاہیں ۔ ''کہا:'' آج رات ہی ملاقات کا متمنِّی ہوں اور چاہتا ہوں کہ ہماری ملاقات کے دوران ان کے پاس ہمارے علاوہ کوئی نہ ہو ۔'' قاضی نے کہا: ''ٹھیک ہے ،ہم آج رات ان کے پاس چلیں گے۔ ''جب رات ہوئی تو دونوں اپنے اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حَارِث علیہ رحمۃ اللہ الوارث کے آستانۂ عالیہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر قاضی یحیی بن اَکْثَم نے دروازے پر دستک دی ۔ اندر سے حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حَارِث علیہ رحمۃ اللہ الوارث نے پوچھا : کون ہے ؟قاضی نے کہا:'' آپ کے دروازے پر وہ آیا ہے جس کی اطا عت آپ پر واجب ہے ۔'' فرمایا: ''وہ کیا چاہتا ہے؟'' کہا:'' آپ سے ملاقات کا خواہش مند ہے ۔'' فرمایا :'' اس معاملے میں میری خوشی کا لحاظ رکھا جائے گا یا مجھے مجبور کیا جائے گا؟'' خلیفہ نے جب یہ سنا تو سمجھ گیا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ملاقات نہیں کرنا چاہتے۔ لہٰذا اس نے یحیی کو واپس چلنے کا حکم دیا۔
Flag Counter