Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
246 - 412
    خوبصورت فرشتو ں نے کہا: '' ہر گز نہیں! تم اس کے حق دارنہیں۔'' پھر ان میں سے ایک فرشتے نے اپنی دو انگلیاں میرے بھتیجے کے منہ میں ڈال کر اس کی زبان پلٹی تو اس نے فوراً ''اللہُ اَکْبَر'' کہا۔ تکبیر کی صداسن کر سفید رنگ کے خوبصورت فرشتوں نے کہا: ''اس نے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں''اللہُ اَکْبَر'' کہا ہے لہٰذا ہم اس کے زیادہ حق دارہیں، تم یہاں سے چلے جاؤ۔' ' جب میں نے اپنے بھتیجے کی طرف نظر کی تو اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی ۔میں نے باہر آکربلندآواز سے کہا: ''اے لوگو ! تم میں سے جو یہ چاہے کہ جنتی شخص کا جنازہ پڑھے تووہ میرے بھتیجے کے جنازے میں حاضر ہوجائے۔''  لوگو ں نے جب یہ سنا توکہنے لگے: ''شاید! شَہْربن حَوْشَب پر جنون طاری ہوگیا ہے۔کل بھی نہ جانے کیا کہہ رہے تھے اور آج بھی عجیب وغریب بات کہہ رہے ہیں کہ '' جنتی شخص کے جنازے میں شریک ہوجاؤ۔'' لوگوں میں اس طرح کی چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ امیرِ قافلہ کو خبر ہوئی تو اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور صورتحال دریافت کی۔ میں نے تمام واقعہ کہہ سنا یا حقیقتِ حال جان کر امیرِ قافلہ اورتمام لشکر والوں نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر380:            لکڑیاں سوناکیسے بنیں۔۔۔۔۔۔؟
    حضرتِ سیِّدُنادَاؤد بن رَشِید علیہ رحمۃ اللہ المجید فرماتے ہیں: ملکِ شام میں دو حسین وجمیل عبادت گزار نوجوان رہتے تھے۔ کثرتِ عبادت اور تقویٰ و پر ہیز گاری کی وجہ سے انہیں''صَبِیْحاورمَلِیْح'' کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنا ایک واقعہ کچھ یوں بیان کیا :'' ایک مرتبہ ہمیں بھوک نے بہت زیادہ تنگ کیا ۔ میں نے اپنے رفیق سے کہا: ''آؤ! فلاں صحرامیں چل کر کسی شخص کو دینِ متین کے کچھ احکام سکھا کر اپنی آخرت کی بہتری کے لئے کچھ اقدام کریں ۔'' چنانچہ، ہم دونوں صحراء کی جانب چل پڑے، وہاں ہمیں ایک سیاہ فام شخص ملا جس کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا تھا۔ ہم نے اس سے کہا: ''بتاؤ! تمہارا رَبّ کون ہے ؟'' یہ سن کر اس نے لکڑیوں کا گٹھّا زمین پرپھینکا اور اس پر بیٹھ کر کہا:'' مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ تیرا رب کون ہے ؟ بلکہ یہ پوچھو: ایمان تیرے دل کے کس گوشے میں ہے ؟'' اس دیہاتی کا عارفانہ کلام سن کر ہم دونوں حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ وہ پھر مخاطب ہوا: ''تم خاموش کیوں ہوگئے، مجھ سے پوچھو، سوال کرو، بے شک طالب ِ علم سوال کرنے سے باز نہیں رہتا۔'' ہم اس کی باتوں کا کچھ جواب نہ دے سکے اور خاموش رہے۔ جب اس نے ہماری خاموشی دیکھی تو بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طرح عرض گزار ہوا:
Flag Counter