Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
244 - 412
تشریف رکھیں، میں نے آپ کی طرف آنے کا ارادہ نہیں کیا اور نہ ہی میں آپ کے لئے آیا ہوں بلکہ میں توحضرتِ سیِّدُناعلی بن طلحہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خاطر اٹھ کر آیا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے نفس نے مجھے ان کے متعلق حسد میں مبتلا کر نے کی کوشش کی اور انہیں دیکھ کر میرے نفس کو ناگواری محسوس ہوئی تومیں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے نفس کو ذلیل ورُسوا کروں اور اس کی بات ہر گز نہ مانوں، بس اسی لئے میں حضرتِ سیِّدُناعلی بن طلحہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آیا ہوں ۔'' یہ سن کر حضرت سیِّدُناعلی بن طلحہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کھڑے ہوئے اور اُن کے سرکا بوسہ لے لیا۔

    قاضی تَنُوْخِی کا بیان ہے کہ مجھے ایک شخص نے بتایا: ''جب حضرتِ سیِّدُنا عبدُ الصَّمَد علیہ رحمۃ اللہ الاحد کا آخری وقت قریب آیا توقاضی ابومحمد اَکْفَانِی کی بیٹی ''اُمِّ حسن'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پا س آئی اور کہنے لگی:'' میں آپ کو قسم دے کرکہتی ہوں کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھ سے اپنی کوئی حاجت طلب کریں اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میں اسے ضرور پورا کروں گی۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: '' ہاں! آج میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں کہ جس طر ح میری زندگی میں تم میر ی بیٹی کی دیکھ بھال کر تی تھی اسی طرح میرے مرنے کے بعد بھی اس کا خیال رکھنا، بس مجھے تم سے یہی حاجت ہے۔''اُمِّ حسن نے کہا:'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے فکر رہیں، اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بیٹی کی بہت اچھی طر ح دیکھ بھال کر وں گی ۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بے قرار ہو کر باربار اِسْتِغْفَار پڑھنے لگے اور کہنے لگے: '' اے اُمِّ حسن! اللہ تعالیٰ میر ی خطا سے در گزر فرمائے۔ وہ پروردگار عَزَّوَجَلَّ میری بیٹی کا تجھ سے بہتر کارساز اور حفاظت کرنے والا ہے۔ ''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر378 :         شہادت ہے مطلوبُ وْمقصودِ مؤمن
    حضرتِ سیِّدُنا ابواُمَیَّہ عبداللہ بن قَیْس غِفَارِی علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں: '' ایک مرتبہ ہم لشکر ِ اسلام کے ساتھ جہاد کے لئے گئے ۔ جب دشمن سامنے آیا تو لوگوں میں شور بر پا ہوگیا ۔ اس دن ہوا بہت تیز تھی۔ تمام مجاہدین دشمن کے سامنے صف بہ صف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے ۔ اچانک میرے سامنے ایک نوجوان آیا جس کا گھوڑا اُچھل کود رہا تھا اور وہ اسے دشمن کی طرف دوڑا رہا تھا اور اپنے آپ سے یوں مخاطب تھا :

    ''اے نفس ! کیا تو فلاں حاضر ہونے کی جگہ حاضر نہ ہوگا؟ کیاتو مرتبۂ شہادت کا طلب گار نہیں کہ توکہہ رہا ہے : '' تیرے
Flag Counter