کوبلایا اور پُوچھ گَچھ کرنے لگا ۔ اسی دوران خلیفہ ہارو ن الرشیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید کو چھینک آئی تو قاضی صاحب کے علاوہ تمام لوگوں نے چھینک کا جواب دیتے ہوئے ''یَرْحَمُکَ اللہ''کہا ۔ خلیفہ نے قاضی سے کہا :'' کیا بات ہے ،تم نے میری چھینک کا جواب نہیں دیا حالانکہ تمہارے سامنے تمام لوگو ں نے جواب دیاہے؟'' قاضی صاحب نے کہا : '' اے امیر المؤمنین! آپ نے ''اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ'' نہیں کہا تو میں نے بھی ''یَرْحَمُکَ اللہ'' نہیں کہا۔ سنئے !اس کے متعلق آپ کو ایک حدیث ِ پاک سناتا ہوں:
''دوشخص حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں حاضر تھے ۔ دونوں کو چھینک آئی ایک نے''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ''کہا لیکن دوسرے نے نہ کہا ۔حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک کی چھینک کا جواب دیکھتے ہوئے ''یَرْحَمُکَ اللہ'' کہاجبکہ دوسرے کو جواب نہ دیا۔اس نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! آپ نے اس کی چھینک کا جواب دیالیکن میری چھینک پر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ''یَرْحَمُکَ اللہ'' نہ فرمایا، اس کی کیا وجہ ہے؟'' حضور نبئ پاک ،صاحب ِلولاک ،سیّاح اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' اس نے ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ '' کہا تومیں نے جواب دے دیا جبکہ تم نے نہ کہا لہٰذ اتمہاری چھینک کا جوا ب نہیں دیا گیا۔''