Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
243 - 412
کوبلایا اور پُوچھ گَچھ کرنے لگا ۔ اسی دوران خلیفہ ہارو ن الرشیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید کو چھینک آئی تو قاضی صاحب کے علاوہ تمام لوگوں نے چھینک کا جواب دیتے ہوئے ''یَرْحَمُکَ اللہ''کہا ۔ خلیفہ نے قاضی سے کہا :'' کیا بات ہے ،تم نے میری چھینک کا جواب نہیں دیا حالانکہ تمہارے سامنے تمام لوگو ں نے جواب دیاہے؟'' قاضی صاحب نے کہا : '' اے امیر المؤمنین! آپ نے ''اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ'' نہیں کہا تو میں نے بھی ''یَرْحَمُکَ اللہ'' نہیں کہا۔ سنئے !اس کے متعلق آپ کو ایک حدیث ِ پاک سناتا ہوں:

    ''دوشخص حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں حاضر تھے ۔ دونوں کو چھینک آئی ایک نے''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ''کہا لیکن دوسرے نے نہ کہا ۔حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک کی چھینک کا جواب دیکھتے ہوئے ''یَرْحَمُکَ اللہ'' کہاجبکہ دوسرے کو جواب نہ دیا۔اس نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! آپ نے اس کی چھینک کا جواب دیالیکن میری چھینک پر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ''یَرْحَمُکَ اللہ'' نہ فرمایا، اس کی کیا وجہ ہے؟'' حضور نبئ پاک ،صاحب ِلولاک ،سیّاح اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' اس نے ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ '' کہا تومیں نے جواب دے دیا جبکہ تم نے نہ کہا لہٰذ اتمہاری چھینک کا جوا ب نہیں دیا گیا۔''
(صحیح البخاری،کتاب الادب،باب لا یشمت العاطس إذا لم یحمد اللہ،الحدیث۶۲۲۵،ص۵۲۴)
    جب قاضی صاحب یہ حدیث ِ پاک سنا چکے تو خلیفہ نے کہا :'' جاؤ! تم اپنے عہدے پر قائم رہو۔ جب تم خلیفہ سے مرعوب نہیں ہوئے تو کسی اور سے مرعوب ہوکر غلط فیصلہ کیونکر کر سکتے ہو۔'' یہ کہہ کر خلیفہ نے اس با ہمت قاضی کو بڑے ادب واحترام سے واپس بھیج دیا۔ 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر377:                 حسد کاعلا ج
    قاضی تَنُوْخِی رحمۃ  اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے: ایک مرتبہ جمعہ کے دن نمازِ جمعہ سے کچھ دیر قبل میں ''جامع منصور'' میں موجود تھا، میری سیدھی طرف حضر تِ سیِّدُنا علی بن طلحہ بن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی تھے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو میرے بہت ہی قریبی دوست عبدُ الصَّمَد بھی کچھ فا صلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان کی طرف جانے کا ارادہ کیا،چونکہ نماز کا وقت بالکل قریب تھا لہٰذا میں ان کے پاس نہ جاسکا لیکن وہ اٹھے اور میری طرف بڑھنے لگے تو میں کھڑا ہوگیا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے کہا:'' قاضی صاحب! آپ
Flag Counter