Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
24 - 412
کی طرف بلند کئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس طر ح فریاد کرنے لگی :
    ''اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! میں تجھ سے تیری اُس رحمت کا سوال کرتی ہوں جو تو نے حضرتِ سیِّدُنا یعقوب علٰی نبینا و علیہ الصلٰوۃ والسلام پر نازل فرمائی اور ان کے بیٹے کو ان سے ملادیا۔ اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !تجھے اسی رحمت کا واسطہ جو تونے حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام پر نازل فرمائی اور ان کی آزمائش کو دور فرمادیا۔ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !میرے بیٹے پر بھی رحم فرما۔ اس کے گناہوں سے در گزر فرما کر اسے بھی معاف فرمادے ۔''

    جب اس نوجوان کا انتقال ہوگیا تو اس کی والدہ نے ہاتفِ غیبی سے یہ آواز سنی ''تیرے بیٹے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے رحم فرمایا اور اس کے تمام گناہ معاف فرما دئیے ' ' اسی طرح ایک آواز حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کو سنائی دی، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا :'' اے ابو سعید ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس نوجوان پر رحم فرماکر اس کے گناہوں کو بخش دیا، اب وہ جنتی ہے ۔'' چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس نوجوان کے جنازے میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے ۔

؎ رحمت دا دریا الٰہی ہر دم وگدا تیرا 



جے اک قطرہ بخشے مینوں کم بن جاوے میرا

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر213:             محدث اورولی کی ملاقات
    حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن حَرْب علیہ رحمۃ اللہ الرَّب فرماتے ہیں :'' میں حضرتِ سیِّدُنا بِشْربن حَارِث حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی زیارت کا بہت مشتاق تھا۔لیکن ابھی تک میری یہ خواہش پوری نہ ہو سکی تھی۔ ایک دن مسجد جاتے ہوئے دیکھا کہ ایک گھنے بالوں والاشخص پرانی سی چاداوڑھے دیوار کی جانب منہ کئے تھیلے سے سوکھی روٹی کے ٹکڑے نکال کر کھا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: ''کیا تم خُرَاسَان کے رہنے والے ہو۔ '' کہا:'' نہیں ،بلکہ بغداد کا رہنے والا ہوں۔ '' میں نے کہا :'' تم یہاں کس لئے آئے ہو؟'' کہا:'' آپ سے حدیث سننے آیا ہوں۔ '' میں نے کہا:''تمہارا نام کیا ہے '' ؟کہا:''آپ میرا نام پوچھ کرکیا کریں گے۔ '' میں نے کہا:'' میری خواہش ہے کہ تمہارا نام جانوں۔'' کہا:''میں ابو نصر ہوں۔'' میں نے کہا:'' میں آپ کا نام جاننا چاہتا ہوں کنیت نہیں۔ '' کہا:'' میں آپ کو اپنا نام نہیں بتاؤں گا کیونکہ اگر میں نے اپنا نام بتادیا تو میں آپ سے حدیث نہیں سن سکوں گا ۔'' میں نے کہا :'' تم اپنا نام بتا دو، اس کے بعد تم حدیث سننا چاہو تو میں تمہیں ضرور سناؤں گا اور اگر نہ سننا چاہو تو تمہاری مرضی۔'' اس نے کہا:
Flag Counter