''اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! میں تجھ سے تیری اُس رحمت کا سوال کرتی ہوں جو تو نے حضرتِ سیِّدُنا یعقوب علٰی نبینا و علیہ الصلٰوۃ والسلام پر نازل فرمائی اور ان کے بیٹے کو ان سے ملادیا۔ اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !تجھے اسی رحمت کا واسطہ جو تونے حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام پر نازل فرمائی اور ان کی آزمائش کو دور فرمادیا۔ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !میرے بیٹے پر بھی رحم فرما۔ اس کے گناہوں سے در گزر فرما کر اسے بھی معاف فرمادے ۔''
جب اس نوجوان کا انتقال ہوگیا تو اس کی والدہ نے ہاتفِ غیبی سے یہ آواز سنی ''تیرے بیٹے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے رحم فرمایا اور اس کے تمام گناہ معاف فرما دئیے ' ' اسی طرح ایک آواز حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کو سنائی دی، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا :'' اے ابو سعید ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس نوجوان پر رحم فرماکر اس کے گناہوں کو بخش دیا، اب وہ جنتی ہے ۔'' چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس نوجوان کے جنازے میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے ۔
؎ رحمت دا دریا الٰہی ہر دم وگدا تیرا
جے اک قطرہ بخشے مینوں کم بن جاوے میرا
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)